بھارت میں ریٹائرڈ جج کے گھر چوری، ملزمان 4 منٹ میں زیورات سمیت 5 لاکھ روپے لوٹ کر فرار
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کے شہر انڈور میں ایک ریٹائرڈ جج کے گھر چوری کی بڑی واردات پیش آئی، جس میں 3 چور صرف 4 منٹ 10 سیکنڈز میں زیورات سمیت 5 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چور رمیش گارگ نامی ریٹائرڈ جج کے گھر رات ساڑھے 3 بجے بنگلے میں داخل ہوئے، دورانِ واردات ریٹائرڈ جج رمیش گارگ اپنے بستر پر سو رہے تھے اور ایک چور ان کے سامنے لوہے کی راڈ لیے کھڑا نگرانی کر رہا تھا جبکہ باقی دو چور الماری سے کیش اور زیورات نکالنے میں مصروف تھے۔
رپورٹ کے مطابق واردات کی فوٹیج کمرے میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوگئی۔ اس وقت گھر کے تمام افراد سو رہے تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں چوروں کی شناخت نہیں ہوسکی کیونکہ انہوں نے اپنے چہرے سیاح ماسک سے چھپائے ہوئے تھے۔
گھر کا الارم سسٹم جسٹس گارگ کے بیٹے رت وِک کو اٹھانے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے چور بغیر پکڑے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
3 criminals rohbed a retired Justice Ramesh Garg’s residence in Indore in just 4 minutes and 10 seconds and got away with Rs 5 lakh and gold-silver jewellery.
They would have killed Justice Garg's son (in the video) if he had woken up. Fortunately, he kept sleeping despite the… pic.twitter.com/MTg8cJgaPQ
— Incognito (@Incognito_qfs) August 13, 2025
رپورٹ کے مطابق چوروں نے گھر میں داخل ہونے کے لیے کھڑکی کی جالی کاٹی، حالانکہ اس وقت باہر سیکیورٹی گارڈ بھی موجود تھا۔ جبکہ رت وِک کی اہلیہ اور بچے دوسرے کمرے میں سوئے رہے اور چوری سے بالکل بے خبر رہے۔
واردات کے بعد انڈور کے علاقے وجے نگر میں ہلچل مچا گئی، جہاں اہم اور بااثر شخصیات رہائش پذیر ہیں۔
ریٹائرڈ جج کے گھر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس پر ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
وجے نگر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے۔
Post Views: 7
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریٹائرڈ جج کے گھر
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے