کراچی میں جشن آزادی کے دوران ہوائی فائرنگ نے خوشیوں کو غم میں بدل دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
کراچی میں آزادی کے جشن کے دوران ہونے والی ہوائی فائرنگ نے کئی گھروں کو سوگ میں مبتلا کردیا ایک گھنٹے کے دوران ہونے والی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 82 افراد زخمی اور 3 افراد جان کی بازی ہار گئے جاں بحق ہونے والوں میں عزیزآباد کی 8 سالہ بچی شامل ہے جو سر پر گولی لگنے سے دم توڑ گئی جبکہ کورنگی اور لیاری میں دو معمر شہری سر اور گردن پر گولی لگنے کے باعث جان سے گئے پولیس اعداد و شمار کے مطابق ایسٹ زون میں 30 ویسٹ زون میں 43 اور ساوتھ زون میں 12 شہری فائرنگ سے متاثر ہوئے زخمیوں میں 51 مرد 24 خواتین 6 بچے اور ایک بچی شامل ہیں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ جشن آزادی کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ خوشی منانے کے نام پر کسی کی جان لے لی جائے انہوں نے اس عمل کو افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیا پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے 57 ملزمان کو گرفتار اور 57 ہتھیار برآمد کر لیے آئی جی سندھ کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف اقدام قتل سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جشن کے موقع پر ایسے اقدامات سے گریز کریں جو دوسروں کے لیے دکھ اور تکلیف کا سبب بنیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
— فائل فوٹوکراچی کے علاقے ملیر 15 میں رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے بھتہ خوروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔
اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق بھتہ خوروں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایس آئی یو کے ہمراہ کارروائی کی گئی تو وہاں موجود بھتہ خوروں نے رینجرز اور ایس آئی یو کی نفری پر حملہ کر دیا۔
ڈاکٹر آکاش سے 13جولائی کو ہلاک ڈاکوؤں نے کلفٹن میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بینک کے باہر لوٹ مار کی تھی۔
ترجمان کے مطابق اس کے بعد مزید نفری کو طلب کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک ہو گئے جبکہ 1 کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے بھتہ خوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ملزمان سے اسلحہ، موبائل فون اور موٹر سائیکل ملی ہے۔