برفبانی دراڑ میں گرنے والے محقق کی باقیات 66 سال بعد دریافت
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
انٹارکٹکا کے ایک پگھلتے گلیشیئر سے برطانوی محقق ڈینس ’ٹنک‘ بیل کی باقیات ملی ہیں، جو 1959 میں ایک تحقیقی مشن کے دوران برفانی دراڑ میں گر کر جاں بحق ہو گئے تھے۔
اسکردو جاتے ہوئے لاپتا ہونے والے نوجوانوں کا سراغ مل گیا، ایک لاش برآمد
برٹش انٹارکٹک سروے کے مطابق ان کے ذاتی سامان کی 200 سے زائد اشیا بھی ملی ہیں، جن میں ریڈیو، ٹارچ، اسکی پولز، چاقو اور گھڑی شامل ہیں۔
ڈی این اے ٹیسٹ سے شناخت ان کے بہن بھائی کے نمونوں سے مطابقت رکھتی ہے۔
حادثے کے وقت بیل ساتھیوں کے ساتھ گلیشیئر پر تھے، جہاں وہ برفانی دراڑ کے کنارے سے گر گئے۔ رسی کے ذریعے بچانے کی کوشش بیلٹ ٹوٹنے سے ناکام ہو گئی اور خراب موسم کے باعث دوبارہ جائے حادثہ تک رسائی نہ ہو سکی۔
یہ دریافت 19 جنوری 2025 کو پولش انٹارکٹک اسٹیشن کے عملے نے کی، جسے ماہرین ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹارکٹکا باقیات برطانوی محقق برفبانی دراڑ گلیشیئر لاش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹارکٹکا باقیات برطانوی محقق برفبانی دراڑ گلیشیئر لاش
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی