ورک فرام ہوم کرنے والوں کے لیے دنیا کے 10 بہترین ممالک کی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
میڈڑڈ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 اگست2025ء)اگر آپ فری لانسر ہیں یا ورک فرام ہوم کر کے دنیا گھومنا چاہتے ہیں تو کئی ممالک ایسے ہیں جو ڈیجیٹل نوماڈ ویزا کے ذریعے یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ویزا گائیڈ کے ڈیجیٹل نوماڈ ویزا انڈیکس کے مطابق 2025 میں یہ 10 ممالک بہترین قرار پائے ہیں۔اسپین بہترین انٹرنیٹ، معیاری طبی سہولیات اور لچکدار ویزا شرائط۔
کم از کم آمدنی: 2646 ڈالرز۔متحدہ عرب امارات زیرو ٹیکس، تیز ترین انٹرنیٹ۔ کم از کم آمدنی: 3500 ڈالرز۔مونٹی نیگرو کم لاگت زندگی، 0 سے 15 فیصد ٹیکس۔(جاری ہے)
کم از کم آمدنی: 1350 ڈالرز۔بہاماس ٹیکس فری، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔ شاندار ساحلی مقامات۔ہنگری 6 ماہ ٹیکس فری قیام۔ کم از کم آمدنی: 3000 ڈالرز۔کینیڈا 15 سے 33 فیصد ٹیکس، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔رومانیہ بہترین انٹرنیٹ، 10 فیصد ٹیکس۔
کم از کم آمدنی: 3950 ڈالرز۔پرتگال 20 فیصد ٹیکس، کم از کم آمدنی: 3548 ڈالرز۔برازیل 0 سے 27 فیصد ٹیکس۔ کم از کم آمدنی: 1500 ڈالرز۔کیوراسا 0 فیصد ٹیکس، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔یہ ممالک ورک فرام ہوم کے شوقین افراد کو نہ صرف بہتر روزگار کا موقع دیتے ہیں بلکہ خوبصورت اور منفرد ماحول میں رہنے کا تجربہ بھی فراہم کرتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔