ویب ڈیسک: اگر آپ فری لانسر ہیں یا ورک فرام ہوم کر کے دنیا گھومنا چاہتے ہیں تو کئی ممالک ایسے ہیں جو ڈیجیٹل نوماڈ ویزا کے ذریعے یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ویزا گائیڈ کے "ڈیجیٹل نوماڈ ویزا انڈیکس" کے مطابق 2025 میں یہ 10 ممالک بہترین قرار پائے ہیں۔

اسپین — بہترین انٹرنیٹ، معیاری طبی سہولیات اور لچکدار ویزا شرائط۔ کم از کم آمدنی: 2646 ڈالرز۔

متحدہ عرب امارات — زیرو ٹیکس، تیز ترین انٹرنیٹ۔ کم از کم آمدنی: 3500 ڈالرز۔

مونٹی نیگرو — کم لاگت زندگی، 0 سے 15 فیصد ٹیکس۔ کم از کم آمدنی: 1350 ڈالرز۔

بہاماس — ٹیکس فری، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔ شاندار ساحلی مقامات۔

ہنگری — 6 ماہ ٹیکس فری قیام۔ کم از کم آمدنی: 3000 ڈالرز۔

کینیڈا — 15 سے 33 فیصد ٹیکس، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔

رومانیہ — بہترین انٹرنیٹ، 10 فیصد ٹیکس۔ کم از کم آمدنی: 3950 ڈالرز۔

پرتگال — 20 فیصد ٹیکس، کم از کم آمدنی: 3548 ڈالرز۔

برازیل — 0 سے 27 فیصد ٹیکس۔ کم از کم آمدنی: 1500 ڈالرز۔

کیوراساؤ — 0 فیصد ٹیکس، آمدنی کی کوئی شرط نہیں۔

یہ ممالک ورک فرام ہوم کے شوقین افراد کو نہ صرف بہتر روزگار کا موقع دیتے ہیں بلکہ خوبصورت اور منفرد ماحول میں رہنے کا تجربہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری