غیرمناسب سیاست کا سب سے بڑا نقصان قوم کو ہوا، نائب وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اگست2025ء)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ غیر مناسب سیاست کا سب سے بڑا نقصان قوم کو پہنچا، سیاسی تبدیلی کے ساتھ معاشی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ لیک سٹی گولف کلب میں بزنس کمیونٹی کی جانب سے یومِ پاکستان، معرکۂ حق اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار و وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو ملنے والے اعزازات کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میں شرکت پرخوشی ہوئی، بزنس کمیونٹی کو دل کی گہرائیوں سے صدر، وزیراعظم، نوازشریف کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 1992 میں لاہورچیمبرکا صدر رہ چکا ہوں، بزنس کمیونٹی کےمسائل کوسمجھتا ہوں، میں نے بڑی کوشش کی چارٹر آف اکانومی ہوجائے، پاکستان کواللہ تعالیٰ نے بےشماروسائل سے نوازا ہے، کچھ لوگوں نے اپنی نااہلی کیوجہ سے معیشت کو ڈی ریل کیا ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں معاشی حالات بہتر ہورہے تھے، ہم دنیا کی 24ویں بڑی معیشت بننے جارہے تھے، 2017میں ڈرامہ رچایا گیا اورمعیشت کونقصان پہنچایا گیا، جوکچھ ان چارسالوں میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہم نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے کوئی دم درود نہیں، کام کیا، نوازشریف حکومت میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوچکا تھا، پی ٹی آئی حکومت میں طالبان کوبسایا گیا، جیسے پہلے دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا اب بھی کریں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسحاق ڈار کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔