ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد وزیر اعلٰی خیبرپختونخواہ نے امدادی سرگرمیوں کیلئے دوسرا ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اگست2025ء) ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد وزیر اعلٰی خیبرپختونخواہ نے امدادی سرگرمیوں کیلئے دوسرا ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیا، باجوڑ میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 5 افراد شہید ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کا صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی مشن کے دوران المناک حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں دو پائلٹس سمیت عملے کے پانچ افراد شہید ہوگئے۔
حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سامان پہنچانے اور ریسکیو کارروائیوں میں مصروف تھا کہ راستے میں فنی خرابی یا خراب موسم کے باعث گر کر تباہ ہوگیا۔(جاری ہے)
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا ہ علی امین گنڈا پور نے 16 اگست کو صوبے بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر جوانوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ تمام شہداء کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا، جبکہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے زندگی کا پہیہ مفلوج کر دیا۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں کئی روز سے جاری موسلا دھار بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے شدید آبی ریلے آبادیوں میں داخل ہو گئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آسمانی بجلی گرنے، مکانات گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے کے مختلف واقعات میں 146 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ متعدد زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ سیلابی ریلوں نے سینکڑوں گھروں، دکانوں اور کھیتوں کو تباہ کر دیا جبکہ سڑکیں، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں پاک فوج اور مقامی رضاکاروں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔