پی سی بی کی ناقص حکمت عملی؟ مینٹورز کی پوسٹ ختم لیکن تنخواہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
کراچی:
مینٹورز کی پوسٹ ختم ہونے کے باوجود 4 سابق کرکٹرز کو بدستور تنخواہوں کی ادائیگی ہو رہی ہے، ثقلین مشتاق اور وقار یونس نوٹس پیریڈ پر ہیں، انھیں برطرفی کے خطوط موصول ہو چکے ہیں جبکہ سرفراز احمد اور مصباح الحق کوئی نئی ذمہ داری ملنے کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس قومی ٹیم کے 5 سابق کھلاڑیوں شعیب ملک، سرفراز احمد،مصباح الحق،وقار یونس اور ثقلین مشتاق کو نئے پروجیکٹ چیمپئنز کپ کے لیے مینٹور مقرر کیا تھا،ان کو50 لاکھ روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا رہا۔
گزشتہ عرصے چیمپئنز کپ کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، یوں مینٹورز کی بھی ضرورت باقی نہ رہی، شعیب ملک پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے،البتہ دیگر چاروں سابق کرکٹرز کو بدستور ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی جاری ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ثقلین مشتاق اور وقار یونس کو پی سی بی نے برطرفی کے خطوط بھیج دیے، البتہ انھیں معاہدے کے تحت چار ماہ کی تنخواہ دینا ہوگی، اس دوران بھی بورڈ ان سے کوئی کام لے سکتا ہے، سرفراز احمد اور مصباح الحق کی خدمات مستقل حاصل کر لی گئی ہیں، البتہ تاحال انھیں کوئی نئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔
ذرائع کے مطابق دونوں کی ماہانہ تنخواہوں میں کمی کا امکان ہے،اس حوالے سے انھیں زبانی طور پر آگاہ بھی کیا جا چکا ہے، یاد رہے کہ پانچوں مینٹورز کو ماہانہ 50 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرنے پر مسلسل تنقید سہنا پڑی تھی۔
پی سی بی نے پہلے انتظار کیا کہ مینٹورز ازخود مستعفی ہو جائیں لیکن معاہدے کے تحت قبل از وقت برطرفی پر چار ماہ کی تنخواہ 2 کروڑ روپے لینے کیلیے کسی نے خود ملازمت نہیں چھوڑی، اسی لیے حکام نے 2 کو برطرف کرتے ہوئے دیگر 2 کی مستقل خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔