معروف ہالی ووڈ اداکار کینسر سے جنگ لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
آسٹریلوی اداکار ٹریسٹن راجرز 79 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اداکار ٹریسٹن راجرز کئی دہائیوں سے چلنے والے ڈے ٹائم سوپ آپیرا شو "جنرل ہاسپٹل" میں اپنے کردار رابرٹ اسکارپیو کے لیے مشہور تھے۔
سینئر اداکار کی مینیجر میرِل سوودک نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ان کی موت کی وجہ پھیپھڑوں کا کینسر تھا، حالانکہ وہ کبھی سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔
میرل سوودک نے کہا کہ "ٹریسٹن کو اسکارپیو کا کردار بہت عزیز تھا، اور انہوں نے اسے زیرو سے شرور کیا تھا۔ انہیں صرف ایک دن کے کام کے لیے بلایا گیا تھا، لیکن وہ اس کردار کو بہت بڑا بنا گئے اور اب تک کئی برس گزرنے کے بعد بھی اس شو سے جڑے رہے وہ ایک وفادار اور مہربان انسان تھے اور اپنی فیملی سے بہت محبت کرتے تھے۔"
واضح ہے کہ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب چند ہفتے پہلے ہی راجرز نے اپنی پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کا اعلان کیا تھا، ان کے نمائندے نے جولائی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ راجرز اپنی میڈیکل ٹیم کے ساتھ علاج کے لیے پرامید ہیں، اور ان کا خاندان اس مشکل وقت میں نجی زندگی کا احترام چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ ٹریسٹن راجرز نے 1980 سے 1992 تک "جنرل ہاسپٹل" میں کام کیا اور 2025 تک وقفے وقفے سے اس شو میں نظر آتے رہے۔ مداح اور ساتھی فنکار ٹریسٹن کی موت پر افسوس کا اظہار کر ہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔