لاہور ( طیبہ بخاری سے ) دفاع وطن ہو یا قدرتی آفت، پاک فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔پاکستان کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی وطن کو کسی خطرے کا سامنا ہوا، چاہے وہ سرحدوں پر دشمن کی یلغار ہو یا اندرون ملک قدرتی آفات، افواجِ پاکستان ہمیشہ صفِ اول میں نظر آئیں۔ 

حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقوں میں شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب جیسی قدرتی آفات نے جہاں عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا، وہیں پاک فوج ایک بار پھر امید کی کرن بن کر سامنے آئی۔

واشنگٹن میں بھارت کے یوم آزادی پر سکھوں کا احتجاج، سفارتخانے کوگھیرلیا، ’’قاتل مودی ‘‘کے نعرے

 ان تباہ کن حالات میں پاک فوج نے جس فرض شناسی، قربانی اور مستعدی سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز شروع کیے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا ہ کیے بغیر لوگوں کو تباہ حال گھروں سے نکالا، محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اور ان کے لیے ہنگامی ریلیف کیمپ قائم کیے۔

آرمی چیف  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی فوری بحالی کے لیے جو ہدایات جاری کیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج صرف ایک عسکری ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی محافظ اور خدمت گزار ادارہ ہے۔ ان کی ہدایت پراضافی فوجی دستے متاثرہ علاقوں میں روانہ کیے گئے،کور آف انجینئرز کو پلوں کی جلد مرمت اور عارضی پلوں کی تعمیر کی ہدایات جاری ہوئیں،اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور رہائش کے بھرپور انتظامات کیے گئے۔

لاہور میں 2 خانہ بدوش لڑکے کچرے کے ڈھیر تلے دب کر جاں بحق، لاشیں کتنی دیر بعد نکالی گئیں ؟ جانیے

پاک  فوج نے اپنا ایک دن کا راشن جو 600 ٹن سے زائد تھا متاثرین کو عطیہ کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ فوج کے جوانوں نے اپنی ایک دن کی تنخواہ بھی سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے وقف کر دی۔ ریسکیو ٹیمیں، ہیلی کاپٹرز، سنیفنگ ڈاگز، اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس کا استعمال کر کے ان جان لیوا حالات میں قیمتی جانوں کو بچایا گیا۔

یہ محض علامتی اقدامات نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاک فوج قوم کے ہر فرد کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے وہ میدانِ جنگ ہو یا قدرتی آفات کا سامنا۔ ملک بھر میں عوام، میڈیا اور مختلف سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے پاک فوج کی ان خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہماری فوج ہمارافخر جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں کے عوام فوجی جوانوں کو حقیقی مسیحا کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کراچی: واٹر ٹینکر نے 7 سالہ بچے کو روند ڈالا

آج جب ہم قدرتی آفات سے دوچار ہوتے ہیں تو فوج کے یہ خاموش ہیرو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کی حفاظت صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس لمحے پر محیط ہے جب قوم کو سہارا درکار ہوتا ہے۔ پاک فوج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ صرف دشمن کے خلاف ڈھال نہیں، بلکہ قوم کے ہر دکھ، ہر درد میں شریک ہے۔ ان کا جذبہِ خدمت، قربانی، اور انسانیت سے محبت، پاکستان کی اصل طاقت ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں قدرتی آفات علاقوں میں پاک فوج

پڑھیں:

موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم

دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو: 
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
 
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا