خیبر پختونخوا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، شہید افراد کی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اسلام آباد:خیبرپختونخوا میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے 2 پائلٹ سمیت عملےکے 5 افراد کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
حادثے میں شہید کرنل ریٹائر شاہد سلطان کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا، وہ آرمی سے ریٹائر ہونےکے بعد انتہائی تجربہ کار پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور انہوں نے اُس وقت کےچیف آف آرمی اسٹاف سمیت متعدد وی آئی پی فلائٹس اڑائی تھیں۔
حادثے میں شہید ریٹائر ونگ کمانڈر آفتاب کا تعلق لاہور سے تھا، وہ ائیر فورس سے ریٹائر ہوئے تھے۔ شہید فلائٹ انجینئر سلیم تلہ گنگ سے تعلق رکھتے تھے اور وہ بھی ائیر فورس سے ریٹائر تھے۔
حادثے میں شہید ہونے والے کریو چیف مختار کا تعلق صوابی سے تھا جبکہ وہ پاک فوج سے ریٹائر ہوچکے تھے۔ اسی طرح شہید کریو چیف محمد جبار کا تعلق بھی تلہ گنگ سے تھا اور وہ آرمی سے ریٹائر تھے۔
ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 گزشتہ 5 ماہ کے دوران کرم میں امدادی کارروائیوں کے لیے درجنوں پروازیں کرچکا تھا، یہ ہیلی کاپٹر 2020 میں روس سے اوورہال کرایا گیا تھا جبکہ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کے بھی زیرِ استعمال رہا ہے۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز باجوڑ کے لیے امدادی سامان لے جانے والا خیبرپختونخوا حکومت کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہوگیا تھا اور حادثے میں 2 پائلٹ سمیت عملے کے 5 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔