خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید کرنل (ر) شاہد سلطان کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا، شاہد سلطان انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھے۔

کرنل شاہد سلطان آرمی سے ریٹائر ہوئے تھے، انہوں نے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف سمیت متعدد وی آئی پی فلائٹس اڑائی تھیں۔

ذرائع کے مطابق حادثے میں شہید ریٹائر ونگ کمانڈر آفتاب ایئر فورس سے ریٹائر ہوئے تھے، ان کا تعلق لاہور سے تھا۔ حادثے میں شہید فلائٹ انجینئر سلیم کا تعلق تلہ گنگ سے تھا۔ وہ ایئر فورس سے ریٹائر تھے۔

یہ بھی پڑھیے خیبر پختونخوا حکومت کے سرکاری ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آنے پر آج یوم سوگ خیبر پختونخوا: ہیلی کاپٹر کا حادثہ کیسے پیش آیا؟ ابتدائی رپورٹ موصول

حادثے میں شہید ہونے والے کریو چیف مختار کا تعلق صوابی سے تھا، وہ پاک فوج سے ریٹائر ہوئے تھے جبکہ حادثے میں شہید کریو چیف محمد جبار آرمی سے ریٹائر تھے، ان کا تعلق بھی تلہ گنگ سے تھا۔

ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید اہلکاروں نے کرم میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 نے کرم میں 5 ماہ کے دوران درجنوں پروازیں کی تھیں۔

ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 کی 2020 میں روس سے اوور ہالنگ کرائی گئی تھی، ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کے بھی زیر استعمال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حادثے میں شہید ہیلی کاپٹر شاہد سلطان سے ریٹائر کا تعلق سے تھا

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی