محسن نقوی کی شہید میجر رب نواز اور کیپٹن محمد آصف کے گھر جا کر اہلخانہ سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
اویس کیانی: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی مظفر آباد میں شہید میجر رب نواز کی رہائش گاہ پر گئے اور ان کے اہل خٓنہ سے ملاقات کر کے تعزیت کی۔
محسن نقوی نے شہیدکے والد ،بھائی اور دیگر اہل خانہ سے ملاقات کی،وزیر داخلہ نےمیجر رب نواز کی شہادت پر اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ محسن نقوی نے شہید میجر رب نواز کی بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کیا۔وزیرداخلہ نے شہید کے والد اور بھائی کے حوصلے اور جذبے کو سراہا۔
مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ا کہ جس قوم کے پاس آپ جیسے بلند حوصلہ والد ہوں،اسے دشمن شکست نہیں دے سکتا۔ میجر رب نواز نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے قیمتی جان وطن پر نچھاور کی۔ میجر رب نواز قوم کے ہیرو ہیں اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
قوم اس آزمائش کی گھڑی میں مصیبت زدہ شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے، صدر زرداری
محسن نقوی نے کہاکہ شہدا کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ شہدا وطن نے اپنے قیمتی لہو سے امن کی آبیاری کی ہے اورپوری قوم کو شہدا کی عظیم قربانیوں پر ناز ہے۔
میجر رب نواز بلوچستان کے علاقے آواران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔
محسن نقوی کی شہید کیپٹن محمد آصف کے گھر آمد،فاتحہ خوانی، شہید کے بیٹے سے ملاقات
وزیرداخلہ محسن نقوی اوچ شریف میں شہید کیپٹن محمد آصف کی رہائش گاہ پر بھی گئے۔
جشن معرکہ حق 75 روپے کا یادگاری سکے کا اجرا کردیا گیا
محسن نقوی نے شہید کیپٹن کےکم سن بیٹے، والدین،بھائیوں اور دیگر اہل خانہ سےملاقات کی۔
محسن نقوی نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور فاتحہ خوانی کی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے شہید کیپٹن آصف کے والدین اور بھائیوں کے عزم اور حوصلے کو سراہا ۔
سیلاب زدہ عوام کے ریسکیو کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائیں، وزیراعظم کی ہدایت
وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کیپٹن محمد آصف کے 10 ماہ کے بیٹے محمد ارسلان کو گود میں لے کر پیار کیا اور اس کے روشن مستقبل کیلئے دعا کی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔