فضیلہ قاضی کو ستارۂ امتیاز ملنے پر قیصر نظامانی کا دل کو چھو لینے والا پیغام وائرل
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
منجھی ہوئی دلکش اداکارہ فضیلہ قاضی کو ان کی فنکارانہ خدمات پر حکومتِ پاکستان نے ستارہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے جو وہ 23 مارچ 2026 کو وصول کریں گی۔
اس موقع پر ان کے شوہر اور معروف اداکار قیصر نظامانی اپنی اہلیہ پر فخر کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے اور سوشل میڈیا پر ایک جذباتی نوٹ لکھ ڈالا۔
قیصر نظامانی نے اپنی اہلیہ کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ آج آپ کو آپ کا حق مل گیا۔ آپ صرف میری بیوی نہیں، بلکہ ایک سپراسٹار ہیں۔
قیصر نظامانی نے کہا کہ یہ اعزاز قوم کے لیے باعث فخر سہی لیکن میرے لیے یہ ایک جدوجہد کی کہانی ہے۔
ادکار نے مزید لکھا کہ میں فضیلہ کے کیریئر کے دوران انتھک محنت اور اپنے کام سے والہانہ لگاؤ کا عینی شاہد ہوں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ میں اس ایوارڈ کی اہمیت سب سے زیادہ جانتا ہوں اور اپنی بیوی فضیلہ قاضی کو بہت بہت مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
قبل ازیں فضیلہ قاضی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ شوبز میں معیاری کام کرنے کی کوشش کرتی رہیں گی۔
انھوں نے دعاؤں اور محبت پر مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
فضیلہ قاضی طویل عرصے سے شوبز کا حصہ ہیں۔ انھوں نے اردو ڈراموں کے ساتھ ساتھ سندھی ڈراموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فضیلہ قاضی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک