یوکرین کو مشورہ دوں گا جنگ بندی معاہدہ کر لیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین میں لوگوں کی مزید اموات نہیں دیکھنا چاہتے۔ اور یوکرین میں جاری خون ریزی کو روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس یوکرین جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ اور یوکرین کو جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کرنا ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کو مشورہ دوں گا جنگ بندی معاہدہ کر لیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں لوگوں کی مزید اموات نہیں دیکھنا چاہتے۔ اور یوکرین میں جاری خون ریزی کو روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس یوکرین جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ اور یوکرین کو جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کرنا ہو گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو مشورہ دوں گا کہ جنگ بندی معاہدہ کر لیں۔ روس بہت بڑی طاقت ہے، یوکرین نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کا ایک بار پھر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاک بھارت سمیت بہت سی جنگیں رکوائیں۔ کانگو، روانڈا، تھائی لینڈ کمبوڈیا اور ایران اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ اگر میں نہ روکتا تو پاکستان اور بھارت نیوکلیئر جنگ کرسکتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین میں اور یوکرین امریکی صدر یوکرین کو کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔