پاکستان میں کیش لیس ڈیجیٹل معیشت کیسے کام کرے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
پاکستان اب کیش کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں ملک کو کیش لیس ڈیجیٹل معیشت کی طرف لے جانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جس پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
کیش لیس معیشت کا کیا مطلب ہے؟
کیش لیس معیشت کا مطلب ہے کہ عام شہری، سرکاری ادارے، اور کاروبار رقم کے لین دین کے لیے نقدی کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کریں — جیسے موبائل ایپس ، بینک ٹرانسفرز،کیوآر کوڈز ، بائیومیٹرک ادائیگیاں
سسٹم کو ضلعی سطح تک لانے کی ہدایت
وزیراعظم نے تمام چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ “راست” (RAAST) ادائیگی کے نظام کو ضلعی حکومتوں تک لے جانے میں وفاقی حکومت سے مکمل تعاون کریں۔
یہ نظام لوگوں کو سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ محفوظ، تیز اور شفاف طریقے سے لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ڈیجیٹل شناخت کیسے کام کرے گی؟
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے لئے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر بنا رہی ہے، جس میں ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت (Digital ID) بنے گی۔ اس میں قومی شناختی کارڈ کا ڈیٹا،بائیو میٹرک معلومات ، موبائل فون نمبرشامل ہوگا
یہ ڈیجیٹل آئی ڈی نہ صرف شہریوں کی شناخت کا ذریعہ بنے گی، بلکہ ادائیگیوں کا بھی بنیادی ذریعہ ہو گی۔
صوبوں کی کارکردگی اور پیشرفت
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتیں گورنمنٹ ٹو پبلک (G2P) اور پبلک ٹو گورنمنٹ (P2G) ادائیگیوں کو RAAST سے منسلک کرنے میں اچھی پیشرفت دکھا رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس کی ادائیگی
سبسڈی یا حکومتی امداد
سرکاری فیسیں
سب کچھ ڈیجیٹل طریقے سے کیا جا سکے گا۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری
کیش لیس معیشت کے لیےتیز رفتار انٹرنیٹ ناگزیر ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے نے فائبر آپٹک کے لیے “رائٹ آف وے” دے دیا ہے ،پاکستان ریلوے اورنیشنل ہائی وے اتھارٹی سے مزید تعاون پر بات چیت جاری ہے تاکہ پورے ملک کو کنیکٹیویٹی دی جا سکے
کون کون شامل تھا؟
اجلاس میں اعلیٰ سطح کی قیادت نے شرکت کی، جن میں شامل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ،وزیر آئی ٹی شزا، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی و دیگر اہم حکام
آگے کیا ہوگا؟
یہ اقدامات پاکستان کو کرپشن سے پاک،شفاف لین دین والا ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عوام دوست معیشت کی طرف لے جائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی کے لیے ایک اہم ستون بننے جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈیجیٹل معیشت اجلاس میں کیش لیس
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،