کیا پاکستان بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنا رہا ؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, August 2025 GMT
بھارت میں بین الاقوامی سلامتی کے ایک ممتاز دانشور، ویپن نارانگ (Vipin Narang) نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBMs) تیار کر رہا جن کی حد مار اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ وہ امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں۔ان کا کہنا ہے، دسمبر 2024 میں امریکا نے پاکستانی اداروں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ( غالباً بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ) کی تیاری میں مبینہ معاونت کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں جن کی صلاحیت باآسانی امریکی علاقوں کو نشانہ بنانے کی ہو سکتی ہے۔
بھارتی اسکالر کا لکھا یہ مضمون پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے پیچھے موجود سیاسی مقاصد کا تنقیدی جائزہ لیتا اور ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کے متعلق دستیاب عوامی معلومات کی روشنی میں ان حالیہ دعووں کا تجزیہ کرتا ہے کہ آیا پاکستان واقعی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یا ICBMs بنا رہا ہے جو امریکی سرزمین تک پہنچ سکیں۔
تاریخی طور پر پاکستان کی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش 1970 ء کی دہائی کے اوائل میں اْس وقت شروع ہوئی جب جنگ اکہتر کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہوا اور پھر بھارت نے 1974 ء میں ایٹمی تجربہ کیا۔ اس وقت پاکستان کو یہ احساس ہوا کہ ایک روایتی طور پر زیادہ طاقتور اور معاند ہمسائے (بھارت) کے خلاف صرف ایٹمی ہتھیار ہی اس کی حتمی سیکیورٹی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ یہ نتیجہ نہ صرف عقلی تھا بلکہ سیاسی طور پر بھی موزوں۔ آخر کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کا ایک بڑا حصہ کھونے کے بعد کیا سوچے گا؟ اس کے بعد سے بھارت ہی وہ واحد عامل رہا ہے جس نے پاکستان کے ایٹمی اسٹریٹجک لائحہ عمل کو تشکیل دیا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان نے ’’شاہین III میزائل‘‘ کا تجربہ کیا، جو اس کا سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل ہے۔یہ روایتی اورایٹمی، دونوں قسم کے وارہیڈز لے جا سکتا ہے اور اس کی حد مار 2750 کلومیٹر بتائی گئی ہے، جو بھارت کے انڈمان و نِکوبار جزائر تک پہنچتی ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ شاہین III اس کے دیگر مختصر فاصلے (SRBMs) اور درمیانے فاصلے (MRBMs) کے میزائلوں کے ساتھ مل کر بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے کافی حد تک قابل اعتبارسد راہ ( deterrence) فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ ایٹمی صلاحیتوں نے بھارت کی ممکنہ جارحیت کی قیمت اس قدر بڑھا دی ہے کہ بھارت، روس کی 2022 ء میں یوکرین پر جارحیت یا اسرائیل کی 2025 ء میں ایران پر فوجی کارروائی جیسی مہم جوئی کے سلسلے میں پاکستان کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکا۔ اس طرح 1970ء کی دہائی میں پاکستان کی قومی سلامتی کی قیادت کی جانب سے کیا گیا فیصلہ جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوا ۔
تاہم اگر مستقبل میں جغرافیائی سیاست کے حالات بدلتے ہیں اور بھارت پاکستان کو اپنی سرزمین سے باہر قائم اپنے فوجی اڈوں سے خطرہ پہنچاتا ہے، اور اگر پاکستان کی قومی سلامتی کی قیادت ان خطرات کو روکنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو اسے کم از کم 5500 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل کی ضرورت ہو گی۔یہ میزائل ان بھارتی اڈوں سے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے کافی ہو گا جو تاجکستان (فَرخور، اسلام آباد سے 900 کلومیٹر دور)، بھوٹان (امترات، 1620 کلومیٹر دور لاہور سے)، اومان (دقم، 1250 کلومیٹر دور کراچی سے)، سیشلز (3520 کلومیٹر دور کراچی سے)، ماریشس (5150 کلومیٹردور)، اور مڈغاسکر (5320 کلومیٹر دور) میں واقع ہیں۔ مگر ان تمام حملوں میں بھی بھارت ہی واحد ہدف ہو گا۔
کوئی بھی میزائل جو پاکستان سے امریکی سرزمین تک مار کر سکے، اسے کم از کم 12,000 کلومیٹر رینج درکار ہو گی۔ حتیٰ کہ اگر پاکستان کوئی ایسا "تصوارتی میزائل" بنا لے، تب بھی وہ امریکا تک نہیں پہنچ سکے گا۔وجہ یہ ہے، پاکستان کے لیے ایسا میزائل بنانا سیاسی طور پر بے مقصد اور وسائل کا ضیاع ہو گا۔
پاکستان کے میزائیلوںکی حدود اس کی راکٹ موٹر ٹیکنالوجی سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ راکٹ موٹر میزائیل نظام کا دل ہوتا ہے۔ راکٹ موٹر کا قطر جتنا بڑا ہو،میزائل اتنا ہی زیادہ فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ تاحال پاکستان نے زیادہ سے زیادہ 1.
دلچسپ بات یہ ہے کہ عوامی طور پر دستیاب کوئی بھی ڈیٹا یہ ثابت نہیں کرتا کہ پاکستان نے 1.4 میٹر سے بڑے قطر والا راکٹ موٹر تیار کیا ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان ایسا موٹر تیار کرتا ہے، تو وہ خلائی پروگرام یا پھر موجودہ میزائیلوں کی رفتار، ٹرمینل نقل و حرکت ( maneuvering)، بیلسٹک ٹریجیکٹری( trajectory )اور گائیڈنس سسٹمز کو بہتر بنانے کے لیے بنایا جائے گا۔
اس کے برعکس بین الاقوامی ذرائع کے مطابق بھارت نہ صرف 2.8 میٹر قطر والے راکٹ موٹر کا کامیاب تجربہ کر چکا بلکہ وہ چار مراحل پر مشتمل بین البراعظمی میزائل تیار کر رہا ہے جس کی حد مار 12000 سے 16000 کلومیٹر ہو سکتی ہے اور جو امریکی سرزمین کو مکمل طور پر نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، قومی مفاد ہی ہر ملک کی اولیّن ترجیح ہوتا ہے۔ اگر مستقبل میں امریکا اور بھارت کے تعلقات قومی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے خراب ہو جائیں، تو امریکا بھارتی میزائلوں سے کیسے نمٹے گا جو اس کی سرزمین تک پہنچ سکتے ہیں؟ اور ویپن نارانگ جیسے اسکالر نے جو امریکی اسٹریٹجک سوچ کے وفادار ہیں، اس مسئلے کو کبھی کھل کر کیوں نہیں اٹھایا؟ سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکا نے کبھی پاکستان کی صلاحیتوں کو براہِ راست خطرہ نہیں سمجھا، لیکن اب جب عالمی حالات بدل رہے ہیں، تو کیا بقول بھارتی دانشور کے امریکا پاکستان کی مبینہ صلاحیتوں کو خطرہ سمجھنے لگا ہے؟ اسی طرح اگر امریکا آئندہ بھارت کی صلاحیتوں کو بھی خطرہ تصّور کرنے لگے، تو وہ کیا کرے گا؟
پاکستان کے لیے خاص طور پر اس کے موجودہ ایٹمی لائحہ عمل کے تناظر میں بین البراعظمی میزائیل کی کوئی اسٹریٹجک افادیت نہیں۔ ان میزائیلوں کی تیاری پاکستان کے دفاعی نظریات اور ایٹمی دفاعی حکمتِ عملی سے میل نہیں کھاتی، جو مکمل طور پر بھارت پر مرکوز اور صرف علاقائی سطح پر محدود ہے۔
اگر پاکستان واقعی بین البراعظمی میزائیل کو اپنے عسکری ڈھانچے میں شامل کرتا ہے، تو اسے اپنی قومی سلامتی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی اور اپنی ایٹمی حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر وسعت دینا پڑے گا جو کہ سیاسی اور معاشی طور پر پاکستان کے لیے فی الحال ممکن نہیں۔
لہٰذا پاکستان کے بین البراعظمی میزائیل بنانے سے وابستہ تشویش کوئی معنی نہیں رکھتی جو کچھ بھارتی تجزیہ کاروں نے ظاہر کی ہے۔ کوئی بھی معقول اور غیرجانبدار اسکالر یہ نتیجہ باآسانی اخذ کر سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان کو بین البراعظمی میزائیل کی نہ ضرورت ہے نہ ترجیح اور نہ ہی ایسی کوئی علامت موجود ہے کہ وہ ایسے میزائل بنا رہا ہے۔ اس بارے میں عوامی طور پر تصدیق شدہ شواہد موجود نہیں، صرف قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ پاکستان کے تمام میزائل بھارت کے خلاف مرکوز ہیں اور اس کی ایٹمی حکمتِ عملی بھی صرف بھارت پر مرتکز ہے۔پاکستان کا اسٹریٹجک لائحہ عمل ’’کم از کم سد راہ‘‘ (Credible Minimum Deterrence) کے گرد گھومتا ہے، اور اس میں عالمی طاقت بننے کا کوئی ارادہ شامل نہیں۔ لہٰذا بین البراعظمی میزائیل کی تیاری کے پیچھے کوئی اسٹریٹجک جوازموجود نہیں ۔
بھارتی ائیر چیف کا مضحکہ خیز دعوی
دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے دیر سے کیے گئے ان بیانات کا مذاق اْڑایا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی فضائیہ (IAF) نے چھ پاکستانی طیارے گرا دیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان تاریخی حقائق اور آپریشنل حقیقتوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے تاریخی جنگی ریکارڈ کی طرف اشارہ کیا، جس میں دکھایا گیا ہے کہ پاک فضائیہ (PAF) نے ماضی کی جنگوں میں صرف ایک گھنٹے میں چھ بھارتی طیارے گرا دیے، جبکہ بھارت کا ریکارڈ حتی کہ اس کے اپنے دعووں کے مطابق، کہیں سست رہا ہے یعنی اسی نتیجے کو حاصل کرنے میں مہینوں لگے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک گرافک موازنے نے طنز کا بہترین انداز میں اظہار کیا ہے: پاکستان، 1 گھنٹے میں 6 طیارے؛ بھارت، 90 دنوں میں 6 طیارے۔ "یہ صرف ایک مزاحیہ تنقید نہیں ،یہ دونوں فضائی افواج کے درمیان جنگی تیاری اور تکنیکی عملداری میں فرق اجاگر کرتا ہے۔" ایک دفاعی ماہر نے کہا۔
تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ بھارتی فوجی حکام کے ایسے مبالغہ آمیز دعوے اکثر داخلی پروپیگنڈا کے مقاصد پانے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ میدان جنگ کی حقیقتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کے ثابت شدہ ریکارڈ نے فضائی لڑائیوں سے لے کر درست اہداف کو نشانہ بنانے تک بار بار بھارت کو دفاعی پوزیشن پر مجبور کیا ہے، چاہے وہ فوجی ہو یا سفارتی۔ان کا کہنا ہے، بھارت کی طرف سے مبالغہ آرائی پر مبنی بیانات حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ براہ راست فضائی تصادم میں یہ پاکستان فضائیہ ہی ہے جس نے تاریخی طور پر بہترین مہارت اور تیز ردعمل دکھا کر فیصلہ کن فتوحات حاصل کی ہیں۔
بھارتی ائیرچیف کا یہ اعتراف کہ "میں نے یہ جنگ ایئر کنڈیشنڈ آپریشن روم سے لڑی نہ کہ کاک پٹ سے‘‘ ان کے وسیع دعووں کو کمزور کرتا ہے۔ براہ راست جنگ سے کہیں دور یہ فاصلہ ان کے دعووں کی ساکھ پر سوالات اٹھاتا اور مبصرین کو ایسی مبالغہ آرائیوں کے پیچھے موجود اتھارٹی پر سوال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ "حقیقی سپاہی اپنے شہدا کی عزت ،احترام اور شفافیت کے ساتھ کرتے ہیں، نہ کہ بڑھا چڑھا کراور دشمن کو مارنے کے غیر تصدیق شدہ اعداد و شمار کے ساتھ۔"
پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دیتے ہوئے برطانوی نیوز ایجنسی، بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی ائیر چیف کے دعووں کا بھارت کے اندر بھی بہت زیادہ مذاق اڑایا گیا اور اس حوالے سے شکوک و شبہات پھیل گئے ہیں۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین ان دعووں کے وقت اور صداقت کا مذاق اْڑاتے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارتی قیادت کو چھ پاکستانی طیاروں کو گرانے کا اعتراف کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ بھارتی شہریوں کے تبصرے الجھن اور بے اعتمادی کا اظہار کرتے ہیں۔ بہت سے افراد طنزیہ طور پر یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ معلومات پہلے کیوں نہیں بتائی گئیں، جیسے کہ پارلیمانی سیشنز کے دوران جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ تفصیلات جان بوجھ کر روکی گئی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں نے زور دیا کہ اس طرح کے تاخیر سے کیے گئے اور مبالغہ آمیز دعوے نئی دہلی کی عسکری حکمت عملی میں طویل عرصے سے جاری نمونے یا پیٹرن کا حصہ ہیں۔اس کے ذریعے سیاسی اور فوجی رہنما اپنی اندرونی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے بڑے بڑے دعووں پر انحصار کرتے ہیں تاکہ اپنی ناقص کارکردگی کو چھپایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اپنے دفاعی حلقے اور سابق جرنیل پہلے بھی فضائی فتوحات کے سرکاری بیانات پر سوال اٹھا اور شواہد میں تضاد اور آزاد تصدیق کی کمی پر تنقید کر چکے ہیں۔
یہ امر بھی سامنے آیا کہ پاکستان کا فضائی جنگی ریکارڈ تصدیق شدہ نبردآزمائی اور میدان جنگ میں ملنے والے ملبے سے ثابت ہے، جبکہ بھارت کے تازہ ترین دعوے غیر جانبدار مبصرین کی تصدیق سے محروم ہیں۔ "یہ دعوے صرف فضائی طاقت کے بارے میں نہیں " تجزیہ کاروں کا کہنا ہے "یہ ٹی وی اسکرین پہ پروپیگنڈے کے لیے داغے جاتے ہیں اور میدان جنگ میں حقیقی کارکردگی سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔‘‘n
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین البراعظمی میزائیل تجزیہ کاروں نے امریکی سرزمین کی سرزمین تک کلومیٹر دور تک مار کرنے پاکستان کی پاکستان کو پاکستان کے کا کہنا ہے کہ بھارتی تک مار کر مبالغہ ا کرتے ہیں کہ بھارت کوئی بھی بھارت کے تک پہنچ کرتا ہے سکتا ہے کے لیے اور اس رہا ہے نے کہا کیا ہے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔