محکمہ داخلہ ڈیفنس پلاننگ ونگ نے دشمن کے ممکنہ حملے کی صورت میں 33 متعلقہ محکمہ جات کے کردار بارے بریفنگ دی۔ 1981 میں تیار کردہ پنجاب وار بُک کو 45 سال بعد جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ وار بُک میں ہر محکمے اور ادارے کی ذمہ داریوں کی واضح حدبندی کی جا رہی ہے۔ صوبہ بھر کی اہم تنصیبات اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات بارے بھی بریفنگ دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ داخلہ میں "پنجاب وار بُک" کی تیاری بارے اہم اجلاس،، جنگ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے مربوط حکمت عملی کا ابتدائی خاکہ پیش کیا گیا،، سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کی صدارت کی۔ محکمہ داخلہ ڈیفنس پلاننگ ونگ نے دشمن کے ممکنہ حملے کی صورت میں 33 متعلقہ محکمہ جات کے کردار بارے بریفنگ دی۔ 1981 میں تیار کردہ پنجاب وار بُک کو 45 سال بعد جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ وار بُک میں ہر محکمے اور ادارے کی ذمہ داریوں کی واضح حدبندی کی جا رہی ہے۔ صوبہ بھر کی اہم تنصیبات اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات بارے بھی بریفنگ دی گئی۔ حکومت پاکستان کی جاری کردہ "وار بُک" کے تناظر میں "پنجاب وار بُک" کے خدوخال بارے مشاورت کی گئی۔ جبکہ جنگ کی صورت میں میزائل حملے، ڈرون حملے یا سائبر اٹیک سے محفوظ رہنے اور فوری رسپانس کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ تمام رہائشی علاقوں میں محفوظ بنکرز اور شیلٹرز کی تعمیر کیلئے قوانین زیر غور آئے۔
 
اجلاس میں پنجاب میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے باریک بینی سے پر پہلو پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ جنگ کی صورت میں اہم تنصیبات کو محفوظ بنانے کیلئے پروٹوکولز جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں، ڈویژنل اور ضلعی انٹلیجنس کمیٹیوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اختیارات دیئے جائیں گے۔ ہنگامی صورتحال میں خوراک اور ادویات کی بروقت ترسیل یقینی بنانا نہایت اہم ہے، تمام اضلاع میں موجودہ وسائل کی میپنگ جلد مکمل کی جائے گی۔ احمد جاوید قاضی نے مزید بتایا کہ شہری دفاع کیلئے سول ڈیفنس کو ہر ممکن وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، ہنگامی صورتحال میں ہسپتالوں اور مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے گا، سوشل میڈیا پر ممکنہ پراپیگنڈا کی روک تھام اور مستند اطلاعات کی ترسیل بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
 
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 سمیت سکیورٹی ادارے مکمل کوارڈینیشن میں رہیں گے۔ سول ڈیفنس کو صوبہ بھر میں محفوظ شیلٹرز کے تعین کی ہدایت کی گئی۔ محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم کے ماتحت تمام اضلاع میں کنٹرول رومز فعال کیے جائیں گے۔ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب طارق چوہان، سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر، سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، ڈی آئی جی سپیشل برانچ خرم شہزاد، ایڈیشنل ڈی جی پی ڈی ایم اے جواد حیدر، ایڈیشنل سیکرٹری ڈیفنس پلاننگ کرنل شہزاد عامر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ عاصمہ چیمہ، ایڈیشنل سیکرٹری فارن نیشنل سکیورٹی عظمیٰ سلیم، کنسلٹنٹ میجر (ر) مدثر بٹ اور ڈائریکٹر سول ڈیفنس ضیغم نواز نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیکرٹری داخلہ پنجاب وار ب ک محکمہ داخلہ کی صورت میں بریفنگ دی سول ڈیفنس

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل