کراچی:سندھ حکومت نے صوبے میں کچے کے ڈاکوؤں کیخلاف تیز اور بے رحمانہ آپریشن کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کچے کے علاقوں میں امن و امان یقینی بنانے کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر کور فائیو لیفٹیننٹ جنرل محمد دستگیر، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد شمریز، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل آئی جیز، سی ٹی ڈی ، اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو کچے میں آپریشن کے حوالے سے مختلف اداروں کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کچے میں فیصلہ کن آپریشن کے لیے وزیر داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی جس میں سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس ودیگر اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے آپریشن پر عمل درآمد کے لئے بھی ایک اور اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی۔ سندھ حکومت نے کچے میں آپریشن پر پنجاب حکومت کو اعتماد میں لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت کچے میں ترقیاتی کام کروائے گی، روڈ نیٹ ورک بنایا جائے گا، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائینگی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقے میں ہر صورت امن امان بحال رکھنا ہے.

اغوا برائے تاوان کی کوئی واردات برداشت نہیں کی جائے گی، آج کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد ڈکیتوں کو ہر صورت ختم کرنا ہے، سنہ 2024ء سے کچے میں پولیس اور رینجرز مل کر آپریشن کررہے ہیں، چاہتا ہوں کچے کے علاقے میں آپریشن تیز اور بے رحمانہ ہو۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جو ڈاکو ہتھیار ڈالیں گے ان کے ساتھ رعایت برتی جائے گی، سندھ حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کیا ہے. ٹیکنالوجی کی مدد سے آپریشن کے نمایاں نتائج مل رہے ہیں اور مزید حاصل کریں گے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کچے میں رہنے والے پُرامن لوگ بھی امن و امان چاہتے ہیں.عوام کے جان و مال کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی، فیصلہ کن آپریشن لاڑکانہ اور سکھر کے کچے کے علاقوں میں تیز کیا جا رہا ہے،ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں آپریشن کے دوران کچے عرصے کے لیے انٹرنیٹ سہولت بند کی جائے گی. ڈکیتوں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے. کچے کے علاقوں میں بند کیے جانے والے موبائل ٹاورز کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کچے کے علاقوں میں پریشن کے جائے گی کچے میں

پڑھیں:

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش