ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
نوجوان ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا معاملہ چالان کی اسکروٹنی مکمل ہونے پر چالان عدالت کو بھیج دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں 16 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس پر سماعت ہوئی۔ پراسکیوشن نے مقدمہ کے چالان کی اسکروٹنی مکمل ہونے پر چالان عدالت میں پیش کردیا۔
پراسکیوشن کیجانب سے مقدمہ میں 31 گواہان شامل ہیں۔ ثناء یوسف کی فیملی، ڈاکٹر، پولیس اہلکار و دیگر گواہان کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پراسکیوشن کی سکروٹنی ٹیم نے 1 ماہ سے زائد عرصہ تک چالان کی سکروٹنی کی۔ پولیس چالان میں عمر حیات کو ہی ثناء یوسف کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم عمر حیات مجسٹریٹ کے سامنے قتل کا اعتراف بھی کر چکا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے پر کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔
یاد رہے کہ عمر حیات نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو دوستی کرنے سے انکار کرنے پر ان کے گھر کے اندر آکر اسے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے