WE News:
2026-06-02@23:02:49 GMT

چین کا میگا ڈیم بھارت کا کتنا پانی کاٹ دے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT

چین کا میگا ڈیم بھارت کا کتنا پانی کاٹ دے گا؟

بھارت کو خدشہ ہے کہ تبت میں چین کے مجوزہ میگا ڈیم کی تعمیر خشک موسم کے دوران ایک اہم دریا کے پانی کے بہاؤ کو 85 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی، چین نے دنیا کے سب سے بڑے ڈیم کی تعمیر شروع کردی

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کو دستیاب بھارتی حکومتی تجزیے اور 4 متعلقہ ذرائع کے مطابق اس صورتحال نے بھارت کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اپنا ڈیم بنانے کے منصوبے کو تیز کرے۔

بھارت کی حکومت 2000 کی دہائی کے اوائل سے ایسے منصوبوں پر غور کر رہی ہے تاکہ تبت کے آنگسی گلیشیئر سے نکلنے والے پانی کے بہاؤ پر قابو پایا جا سکے جس پر چین، بھارت اور بنگلہ دیش میں 100 ملین سے زائد افراد انحصار کرتے ہیں۔ تاہم اروناچل پردیش کی سرحدی ریاست میں مقامی باشندوں کی سخت اور بعض اوقات پرتشدد مزاحمت کے باعث یہ منصوبے رکے رہے جو سمجھتے ہیں کہ ڈیم سے ان کے گاؤں ڈوب جائیں گے اور ان کا طرز زندگی تباہ ہو جائے گا۔

پھر دسمبر میں چین نے اعلان کیا کہ وہ یارلنگ زانگبو دریا کے بھارتی حدود میں داخل ہونے سے قبل، سرحدی کاؤنٹی میں دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی ڈیم تعمیر کرے گا۔ اس اعلان نے بھارت میں خدشات کو جنم دیا کہ چین جو اروناچل پردیش کے کچھ حصوں پر دعویٰ بھی رکھتا ہے دریا کے پانی کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ یہی دریا بھارت میں سیانگ اور برہمپترا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

بھارت کا جواب: اپر سیانگ ڈیم

مئی میں بھارت کی سب سے بڑی پن بجلی کمپنی نے پولیس کی سیکیورٹی میں اپر سیانگ ملٹی پرپز اسٹوریج ڈیم کی ممکنہ جگہ پر سروے کے لیے سامان منتقل کیا۔ اگر مکمل ہو گیا تو یہ ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا۔ رائٹرز ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر کی جانب سے جولائی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس منصوبے کی رفتار تیز کرنے پر بات چیت کی گئی۔

مزید پڑھیے: چین نے دریائے برہما پتر پر میگا ڈیم کی تعمیر شروع کر دی، بھارت پریشانی کا شکار

بھارتی حکومت کے ایک تجزیے کے مطابق چین کے ڈیم کی تعمیر سے سالانہ 40 ارب کیوبک میٹر پانی چین اپنی طرف موڑ سکے گا جو سرحدی پوائنٹ پر موصول ہونے والے کل پانی کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ خشک موسم میں یہ اثر شدید ہوگا جب درجہ حرارت بڑھتا ہے اور زمین بنجر ہو جاتی ہے۔

بھارت کا اپر سیانگ منصوبہ 14 بی سی ایم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے خشک موسم میں پانی چھوڑا جا سکے گا۔ اگر یہ ڈیم نہ بنا تو بھارتی شہر گوہاٹی کو پانی کی فراہمی میں 25 فیصد کمی کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ ڈیم کی موجودگی میں یہ کمی 11 فیصد تک محدود رہے گی۔

چینی ڈیم سے بھارت کو ممکنہ خطرات

بھارتی ڈیم چین کی جانب سے اچانک بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے کی صورت میں حفاظتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر بھارتی ڈیم 50 فیصد سے کم پانی کے ذخیرے پر ہو تو وہ چینی ڈھانچے سے پانی کے کسی بھی اچانک اخراج کو جذب کر سکے گا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے پن بجلی منصوبے محفوظ اور ماحولیاتی تحقیق کے بعد بنائے جا رہے ہیں اور یہ نیچے کے ممالک کے ماحولیاتی یا آبی نظام پر منفی اثر نہیں ڈالیں گے۔

مقامی مخالفت اور انسانی قیمت

مئی میں جب این ایچ پی سی کے کارکنان نے پارونگ گاؤں کے قریب سروے کا آغاز کیا تو مشتعل مقامی باشندوں نے مشینری کو نقصان پہنچایا، پل کو توڑ دیا اور پولیس کے کیمپ لوٹ لیے۔ یہ علاقے کی مقامی برادری کے لوگ تھے جن کی روزی روٹی دھان، مالٹے اور مصالحہ جات کی کاشت سے جڑی ہے۔

ڈیم کے آبی ذخیرے سے کم از کم 16 گاؤں متاثر ہوں گے جن میں براہ راست 10 ہزار افراد متاثر ہوں گے۔ مقامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: روسی تیل خریدا تو بھارت، چین، برازیل کی معیشت تباہ کر دیں گے، امریکا کی وارننگ

ایک مقامی دکاندار اور ماں اودونی پالو پابن نے کہا کہ ہم یہاں کی زمین سے اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور ہم مرنے تک اس ڈیم کی مخالفت کریں گے۔

مشاہدات بتاتے ہیں کہ بھارت میں بڑے ڈیم منصوبوں کو ماحولیاتی تحریکوں کی وجہ سے برسوں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر اپر سیانگ ڈیم کی منظوری مل بھی گئی تو اس کی تعمیر میں ایک دہائی لگ سکتی ہے جبکہ چین کا منصوبہ 2030 کی دہائی کے اوائل تک مکمل ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت کا پانی بھارت کو تشویش تبت پر چین کا ڈیم چینی ڈیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت کا پانی بھارت کو تشویش تبت پر چین کا ڈیم چینی ڈیم ڈیم کی تعمیر اپر سیانگ کے مطابق بھارت کا بھارت کو پانی کے سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی