Express News:
2026-07-24@07:58:46 GMT

آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل بنیادی حق ہے، سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیئر ٹرائل کا حق آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت ایک بنیادی حق بن گیا ہے۔ مناسب قانونی عمل ایک لازمی شرط ہے جس کا ہر سطح پر احترام کیا جانا چاہیے۔

فیئر ٹرائل کا حق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جانی چاہیے جب تک کہ اسے جواب دینے اور اپنا مقدمہ پیش کرنے کا مناسب اور منصفانہ موقع نہ دیا جائے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے نجی افراد اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے درمیان جائیداد کے تنازع سے متعلق کیس کے تحریری فیصلے میں کہا کہ قانون کے تحفظ سے مستفید ہونااور قانون کے مطابق سلوک کیا جانا ہر شہری کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔

آرٹیکل 4 کا مقصد قانون کے سامنے برابری یا قانون کے یکساں تحفظ کے اصول کو نافذ اور مربوط کرنا ہے، مناسب قانونی عمل کے بغیر کسی بھی شخص کی زندگی اور آزادی کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔

قدرتی انصاف کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ ملزم کو سزا دینے سے پہلے اپنا موقف پیش کرنے کیلئے منصفانہ موقع دیا جائے۔ ہمارے آئین میں فیئر ٹرائل کا حق آرٹیکل 10 ایکے تحت ایک بنیادی حق بن گیا ہے۔

تمام عدالتی، نیم عدالتی اور انتظامی حکام کے لیے یہ ایک ناگزیر ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمت اور دانش کے مطابق انصاف کو یقینی بنائیں۔

درخواست گزار یامین اینڈ کمپنی کو1992 میں کراچی میں 16481 سکوائر فٹ اراضی 99 سالہ لیز پر دی گئی تاہم2020 میں مدعا علیہ نمبر6 نے اس الزام کے تحت منسوخی کا نوٹس جاری کردیا کہ وہ لیز جعلی تھی، سندھ ہائیکورٹ نے انکی درخواست مسترد کردی تھی تاہم سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے معاملہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو بھیج دیا کہ وہ فریقین کو سن کر تین ماہ میں فیصلہ کریں۔

دریں اثنا ہ جسٹس محمد علی مظہر نے بھرتیوں کے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹ تقرری یا بھرتی کے عمل میں رٹ درخواست کے دائرہ اختیار میں شواہد ریکارڈ کرسکتی ہے نہ ہی تنازع کا گہرائی سے جائزہ لے سکتی ہے۔

تین رکنی بنچ نے 174اپیلوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فریقین نے سندھ ہائیکورٹ سکھر بنچ میں درخواستیں دائر کیں کہ انھوں نے محکمہ تعلیم میںبی پی ایس ایک سے بی پی ایس چار تک نان ٹیکنیکل آسامیوں کیلئے اپلائی کیا تھا اور ضلعی بھرتی کمیٹی کی سفارش پر آفر لیٹر بھی جاری ہوچکے تھے ۔

عدالت نے اپیلیں نمٹاتے ہوئے ہدایت کی کہ ہائیکورٹ میرٹ پر کیس پر ازسر نو سنے اور فریقین کو مکمل دفاع کا موقع فراہم کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیئر ٹرائل قانون کے ا رٹیکل کے تحت

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی