نادرا عوام کو پریشان نہ کرے، کسی کی ویریفیکشن کا کیا نظام ہے؟، سندھ ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈ کے اجرا میں تاخیر پر نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور زرینہ نامی خاتون کے معاملے میں کل ہی زونل بورڈ کا اجلاس بلا کر تصدیق کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالتی کارروائی
کیس کی سماعت جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کی۔
عدالت نے نادرا حکام سے استفسار کیا کہ شہریوں کے لیے ویری فکیشن اور جانچ کا نظام کیا ہے۔
جسٹس کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ نادرا کا عوام کے ساتھ رویہ درست نہیں، لوگ وقت ضائع کر کے آفس آتے ہیں مگر عملہ کہتا ہے ہم کھانا کھا رہے ہیں۔
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر شہریوں کو تنگ کیا گیا تو نادرا عملے کو عدالت میں بٹھا دیا جائے گا۔
پس منظر
مارچ 2025 میں عدالت نے زرینہ کی تصدیق کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار کا موقف ہے کہ ان کے بلڈ ریلیشن میں کوئی موجود نہیں۔
خاتون نے استدعا کی تھی کہ ان کا قومی شناختی کارڈ شوہر کے ساتھ بنانے کا حکم دیا جائے۔
نادرا کا مؤقف
نادرا کے نمائندے نے کہا کہ شہریوں کو باری کے لیے ٹوکن جاری کیا جاتا ہے۔
عدالت نے سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ زونل بورڈ صرف یہ طے نہیں کر سکتا کہ شناختی کارڈ بن سکتا ہے یا نہیں؟
آئندہ لائحہ عمل
عدالت نے نادرا کو 15 دن میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی