پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر، خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں، سیلاب و خشک سالی کے خدشات
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان موسمیاتی تباہی کے دہانے پر آگیا، جس کے ممکنہ خطرناہ اثرات سے ملک میں سیلاب و خشک سالی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات اور فنڈنگ کے معاملات پر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اجلاس کی صدارت جنید اکبر نے کی جب کہ چیئرمین این ڈی ایم اے نے ملک میں حالیہ صورتحال اور مستقبل کے خطرات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے اور آنے والے سال میں شدت 22 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔ اگر درجہ حرارت بڑھتا رہا تو ملک کے 7500 گلیشیئر تیزی سے پگھلنے لگیں گے، جس کے بعد خشک سالی، فوڈ سکیورٹی اور پانی کی قلت کے مسائل پیدا ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ چترال شمال و جنوب اور اسکردو جیسے علاقے مستقبل میں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مون سون کا موجودہ دباؤ 10 ستمبر تک برقرار رہے گا، پانی کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ستلج کے علاقے سے اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ مختلف متاثرہ علاقوں میں 2100 ٹن امدادی سامان بھی بھجوایا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں تباہ شدہ مقامات کی تعمیر نو کی جائے گی۔
پی اے سی اجلاس میں جنید اکبر نے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا عالمی ماحولیاتی آلودگی میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کی سزا بھگت رہے ہیں مگر بدلے میں ہمیں امداد نہیں بلکہ صرف قرضے مل رہے ہیں۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد دنیا نے پاکستان کو 10.
سیکرٹری اقتصادی امور کے مطابق سیلاب کے بعد 16 ارب ڈالر کی ضروریات کا تخمینہ لگایا گیا تھا، جس میں سے 8 ارب ڈالر خود اور 8 ارب عالمی اداروں سے لینے کا منصوبہ بنایا گیا، تاہم بریفنگ کے مطابق ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کی بڑی کمٹمنٹس بھی زیادہ تر قرض کی صورت میں تھیں۔
اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچنے کے لیے نہ صرف فوری ریسکیو اور ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی کرنی ہوگی تاکہ مستقبل کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی اجلاس میں ارب ڈالر
پڑھیں:
دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب
دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے، اسحاق ڈار کا ایس سی او سمٹ میں خطاب WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
بشکیک(آئی پی ایس )نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا،
افغان طالبان پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو پاکستان کی کامیاب سفارت کاری قرار دیتے ہوئے 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی پاکستان میں میزبانی کے عزم کا اعادہ کیا۔
کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایس سی او کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر رکن ممالک کو مبارکباد دی اور کہا کہ تنظیم گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے خطے میں امن، سلامتی، معاشی تعاون، رابطہ کاری اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مساوات، احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے، جس نے تنظیم کو ایک مضبوط علاقائی پلیٹ فارم بنایا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرپاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکبادCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم