کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گلگت بلتستان کے سیلاب زدگان کے لیے 3 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا اویس لغاری، علی پرویز ملک اور رانا تنویر نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے گرین ٹیکسانومی، سستے گھروں کی اسکیم اور صنعتی اصلاحات کی منظوری دے دی

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو خیمے، ادویات، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف مل سکے۔

ای سی سی نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے لیے 11 ارب روپے کی ضمنی تکنیکی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔

کمیٹی نے ابتدائی طور پر 3 ارب 81 کروڑ 30 لاکھ روپے کی قسط جاری کرنے کی منظوری دی، جبکہ باقی رقم سہ ماہی بنیادوں پر تنخواہوں، پنشنز اور آپریشنل اخراجات کی ادائیگی کے لیے فراہم کی جائے گی۔

اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے کیپٹیو پاور صارفین پر لگنے والی ٹرانسمیشن لیوی میں ریلیف کی سمری پر بھی غور ہوا۔ ای سی سی نے ڈویژن کی مجوزہ طریقہ کار کی منظوری دی جس کے تحت کیپٹیو پاور کنزیومرز سے وصول شدہ لیوی کا فائدہ گرڈ صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔

اجلاس میں مچیکے، تھلیاں، تاروجبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کے ٹیرف تعین کے جائزے سے متعلق پٹرولیم ڈویژن کی سمری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بین الحکومتی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی اجلاس: سردیوں کے لیے بجلی کا خصوصی پیکج، این ڈی ایم اے کے لیے گرانٹ کی منظوری

کمیٹی نے ڈویژن کی تجویز کردہ شرائط و ضوابط کی منظوری دی تاکہ اس اسٹریٹجک منصوبے کا آغاز ممکن ہو سکے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی، تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی اجلاس سیلاب زدگان پیکج منظور وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقتصادی رابطہ کمیٹی ای سی سی اجلاس وی نیوز کی منظوری اجلاس میں ڈویژن کی کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش