کوئی بھی مرد ہیمامالنی کو مجھ پر ترجیح دیتا، دھرمیندرکی پہلی بیوی کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار دھرمیندر کی شادی 1954 میں پرکاش کور سے ہوئی، جو ان کے بالی ووڈ ڈیبیو سے کئی سال پہلے کی بات ہے، اس جوڑے کے ہاں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں پیدا ہوئیں, سنی، وجیتا، اجیتا اور بوبی۔
تاہم 1970 میں دھرمیندر کی پہلی ملاقات خوبرو اداکارہ ہیما مالنی سے فلم ’تم حسین میں جوان‘ کی شوٹنگ کے دوران ہوئی، تاہم ان کی محبت اصل معنوں میں 1975 کی فلم’شعلے‘ کے سیٹ پر پروان چڑھی۔
بالآخر دونوں نے 1980 میں شادی کر لی، لیکن دھرمیندر اپنی پہلی بیوی سے علیحدہ نہ ہوئے، اس شادی کے بعد لوگوں نے دھرمیندر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عیاش بھی قرار دیا، مگر پرکاش کور اپنے شوہر کے دفاع میں سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:
1981 میں اسٹار ڈَسٹ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پرکاش کور کا مؤقف تھا کہ صرف ان کے شوہر کیوں، کوئی بھی مرد ہیما مالنی کو ان پر ترجیح دیتا۔’میرے شوہر کو عیاش کہنے کی کسی کو کیا جرات ہے، جب کہ آدھی انڈسٹری یہی کچھ کر رہی ہے۔‘
پرکاش کور کا مطلب تھا کہ تمام ہیرو افیئرز کر رہے ہیں اور دوسری شادی بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دھرمیندر شاید سب سے اچھے شوہر نہ ہوں، لیکن ان کے ساتھ بہت اچھے ہیں، اور یقیناً سب سے بہترین والد بھی۔ ’ان کے بچے ان سے بے حد محبت کرتے ہیں اور وہ کبھی انہیں نظرانداز نہیں کرتے۔‘
شوہر کی دوسری بیوی ہیما مالنی کے بارے میں پرکاش کور کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ سکتی ہیں کہ ہیما کس کرب سے گزر رہی ہے کیونکہ اسے دنیا، رشتہ داروں اور دوستوں کا سامنا بھی کرنا ہے لیکن اگر وہ ہیما کی جگہ ہوتی، تو ایسا کبھی نہ کرتیں۔
مزید پڑھیں:
’ایک عورت کی حیثیت سے میں اس کے جذبات کو سمجھ سکتی ہوں، مگر بیوی اور ماں کی حیثیت سے میں انہیں قبول نہیں کر سکتی۔‘
دوسری شادی کے باوجود پرکاش کور نے دھرمیندر کے لیے اپنی عزت و احترام کو قائم رکھا، انہوں نے کہا کہ وہی ان کی زندگی کے پہلے اور آخری مرد ہیں اور ان کے بچوں کے والد بھی، انہوں نے دھرمیندر کی دوسری شادی کو اپنی تقدیر کا حصہ مان لیا۔
’جب بھی ضرورت پڑی، دھرمیندر میرے ساتھ کھڑے رہے، میں ہمیشہ انہیں ایک اچھے انسان اور والد کے طور پر یاد رکھوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دھرمیندر دوسری شادی شوہر عیاش ہیما مالنی والد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ شوہر عیاش ہیما مالنی والد ہیما مالنی پرکاش کور
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :