امریکی ٹائیفون میزائل سسٹم عارضی طور پر جاپان میں تعینات
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکا کے ٹائیفون میزائل سسٹم کو عارضی طور پر جاپان میں تعینات کردیا گیا ہے جہاں دونوں ممالک کی فوجی مشق ہوگی۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشق میں ٹائیفون انٹرمیڈیٹ رینج میزائل عارضی طور پر تعینات کردیا جائے گا۔
رپورٹ میں جاپانی اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس اقدام سے ممکنہ طور پر چین ناراض ہوسکتا ہے۔
جاپان کی گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس کے ترجمان نے بتایا کہ ٹائیفون سسٹم کو ریزولیوٹ ڈریگن مشق کے حصے کے طور پر امریکی میرین ایئر اسٹیشن لواکنی میں منتقل نصب کیا جائے گا۔
دونوں ممالک کی افواج کی مشق کے دوران میزائل فائر کیا جائے گا یا نہیں اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تاہم ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد دفاع، دفاعی صلاحیت اور آپریشنز کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
میزائل سسٹم کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی ٹائیفون نظام ایشیا میں اینٹی شپ ہتھیاروں کو تعینات کرنے کا حصہ ہے حالانکہ 2024 میں پہلی مرتبہ جب اس سسٹم کو فلپائن منتقل کیا گیا تھا چین کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔
امریکا نے 2024 میں فلپائن میں بھی مشق کے سلسلے میں سسٹم نصب کیا تھا۔
جاپان اور امریکا کی فوجی مشق ریزولیوٹ ڈریگن 11 ستمبر سے 25 ستمبر تک ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹومہاک کروز میزال فلپائن سے چین اور روس دونوں ممالک کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ ایس ایم -6 میزائلز بھی فضا یا سمندر میں 200 کلومیٹر یا اس سے دور ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بتایا گیا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔