گوگل نے دنیا بھر کے 2 ارب 50 کروڑ جی میل صارفین کو عالمی سطح کے ایک بڑے سائبر حملے کے بعد الرٹ جاری کر دیا ہے۔

کمپنی کے مطابق ہیکرز نے 8 سے 18 اگست کے دوران اوپن آتھرائزیشن (OAuth) ٹوکنز کو ہیک کر کے نہ صرف جی میل کے صارفین کو متاثر کیا بلکہ سیلز فورس کے ڈیٹا بیس تک بھی رسائی حاصل کر لی۔ گوگل کے تھریٹ انٹیلیجنس گروپ نے اس ہیکر گروہ کی شناخت “UNC6395” کے نام سے کی ہے جو سیلز فورس کے صارفین کا ڈیٹا چرانے کی مہم میں ملوث رہا اور اس مقصد کے لیے Salesloft Drift ایپ کے کمپرومائزڈ ٹوکنز استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: گوگل میپس کی غلطی: فیملی وین دریا میں بہہ گئی، 3 ہلاک ایک بچہ لاپتا

کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ انٹرپرائز سطح پر اس سائبر حملے کو ختم کر دیا گیا ہے لیکن جی میل صارفین کو سخت حفاظتی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہے۔ متاثرہ صارفین کو ای میل نوٹیفکیشن موصول ہو رہے ہیں جن میں انہیں پاس ورڈ تبدیل کرنے اور اکاؤنٹ محفوظ بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

گوگل نے کہا ہے کہ صارفین اپنے اکاؤنٹ کی سیکیورٹی چیک اپ کریں، مضبوط پاس ورڈ رکھیں، دوہری توثیق کا نظام (ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن) آن کریں، غیر شناخت شدہ ڈیوائسز سے سائن آؤٹ ہوں، مشکوک ایپس سے تھرڈ پارٹی ایکسیس ختم کریں اور اپنے لاگ ان ہسٹری پر مسلسل نظر رکھیں۔

گوگل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں تو مستقبل میں ہیکرز کا نشانہ بننے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جی میل سائبر حملہ گوگل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جی میل سائبر حملہ گوگل صارفین کو جی میل

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف