امریکا میں براؤن انڈے مارکیٹ سے کیوں واپس منگوالیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن یعنی سی ڈی سی نے براؤن انڈوں کے متعدد کارٹن مارکیٹ سے واپس منگوا لیے ہیں، جو سالمونیلا کے پھیلاؤ سے منسلک پائے گئے، اس وبا سے اب تک 14 ریاستوں میں 95 افراد متاثر اور 18 اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اصلی دیسی انڈے کی پہچان کیا ہے؟
بدھ کو جاری کیے گئے اس الرٹ کے مطابق یہ انڈے مشو، ناگاتوشی پروڈیوس اور نجیامارکیٹس کے برانڈ نام سےسی اے 7695 کوڈ کے ساتھ بڑے براؤن کیج فری کارٹنوں میں پیک کیے گئے تھے، جن پر فروخت کی آخری تاریخ یکم جولائی 2025 سے 18 ستمبر 2025 تک درج تھی۔
The @US_FDA is investigating illnesses in a outbreak of Salmonella infections linked to large brown cage free "sunshine/omega-3 golden” yolk eggs sourced from Country Eggs, LLC, of Lucerne Valley, CA.
— U.S. FDA Human Foods Program (@FDAfood) August 28, 2025
متاثرہ انڈے 16 جون سے 9 جولائی 2025 کے دوران کیلیفورنیا اور نیواڈا سے تقسیم کیے گئے اور گروسری اسٹورز کے علاوہ فوڈ سروس ڈسٹری بیوٹرز کو بھی بھیجے گئے۔ یہ انڈے سن شائن یوکس اور اومیگا3 گولڈن یوکس کے نام سے بھی فروخت ہوئے۔
سی ڈی سی اور ایف ڈی اے نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ انڈے فوری طور پر ضائع کریں یا جہاں سے خریدے تھے وہاں واپس کریں۔
ادارے کے مطابق سالمونیلا کے عام اثرات میں شدید دست، 102 ڈگری فارن ہائیٹ سے زائد بخار، قے، پانی کی کمی، خشک منہ و گلا اور چکر آنا شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: مرغیاں اور انڈے چوری کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدی کی سزا 10 سال بعد معاف
یہ علامات عموماً انڈے کھانے کے 6 گھنٹے سے 6 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں، اور زیادہ تر مریض 4 سے 7 دن کے اندر بغیر دوا کے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
تاہم 5 سال سے کم عمر بچے، 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے مریضوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن انڈے بخار براؤن پانی کی کمی دوا ڈگری فارن ہائیٹ سالمونیلا سی ڈی سی فوڈ سروس ڈسٹری بیوٹرز قے کیلیفورنیا نیواڈا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا انڈے پانی کی کمی دوا سالمونیلا سی ڈی سی کیلیفورنیا
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔