سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی جاری، 356 میں سے 354 فیڈرز بحال
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاور ڈویژن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی پر تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیسکو کے علاقوں سوات، بنوں، شانگلہ، صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 12 گرڈ اور 91 فیڈرز متاثر ہوئے تھے جن میں سے 84 مکمل اور 7 جزوی طور پر بحال ہو گئے ہیں۔ صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
گیپکو کے علاقوں سیالکوٹ، نارووال، وزیرآباد اور حافظ آباد میں 10 گرڈ اور 87 فیڈرز متاثر ہوئے۔ ان میں سے 68 فیڈرز مکمل جبکہ 17 جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
لیسکو کے تحت لاہور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ میں 56 متاثرہ فیڈرز جزوی طور پر بحال کیے گئے ہیں۔ مکمل بحالی 31 اگست سے 5 ستمبر کے درمیان متوقع ہے۔
فیسکو کے علاقوں فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، سرگودھا، میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 17 گرڈ اور 53 متاثرہ فیڈرز عارضی طور پر بحال کیے گئے ہیں۔
میپکو کے زیرِ انتظام علاقوں میں 67 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق پانی اترتے ہی بحالی کا عمل فوری شروع کر دیا جائے گا۔
ٹیسکو کے علاقے شمالی وزیرستان میں 2 متاثرہ فیڈرز عارضی طور پر بحال کیے جا چکے ہیں جبکہ مکمل بحالی 5 ستمبر تک متوقع ہے۔
مجموعی طور پر 39 گرڈ اور 356 متاثرہ فیڈرز میں سے 152 مکمل اور 202 جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ پاور ڈویژن نے کہا کہ ڈسکوز کی ٹیمیں دن رات بحالی کے کام میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی جلد مکمل بحال کر دی جائے گی
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جزوی طور پر بحال متاثرہ فیڈرز میں بجلی کی علاقوں میں گرڈ اور
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔