لاہور:

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر محکمہ وائلڈ لائف نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں جانوروں کو بچانے کے لیے ہنگامی آپریشن شروع کردیا۔

اس مقصد کے لیے ریسکیو ٹیموں کو خصوصی ایمبولینسز اور ویٹرنری ڈاکٹرز فراہم کیے گئے ہیں جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں ویٹرنری کیمپس قائم کرکے زخمی جانوروں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

سیلاب کی بے رحم موجوں کے ساتھ سرحد پار سے بے زبان ہرن بھی بہہ کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں آئے جنہیں وائلڈ لائف رینجرز نے بروقت ریسکیو کر کے نئی زندگی دے دی۔

وائلڈلائف رینجرز پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سید کامران بخاری نے بتایا کہ سیالکوٹ میں 26 اگست کو سیلابی پانی کے ساتھ بہہ کر آنے والے ہرن کے جوڑے کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔

نارووال میں زخمی اور حاملہ مادہ ہرن کو بروقت طبی امداد دی گئی۔ شکرگڑھ میں ایک کم عمر نر ہرن کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا جبکہ مریدکے، وزیرآباد اور منڈی بہاؤالدین میں مزید چار ہرن مختلف کارروائیوں کے دوران ریسکیو کیے گئے۔ اب تک کل سات ہرنوں کو کامیابی سے بچایا جا چکا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جانوروں کی زندگیاں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی انسانی جانیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر جنگلی حیات ہوتی ہے، ان کی حفاظت حکومت پنجاب کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کے مطابق پنجاب میں حالیہ سیلاب نے نہ صرف کھیتوں اور گھروں کو متاثر کیا بلکہ جنگلی حیات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

جنگلوں اور دریاؤں کے کنارے بسنے والے جانور اپنے مسکن کھو بیٹھے ہیں، کئی خوراک اور پناہ کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہرن سمیت کئی نایاب نسلیں ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا

محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد قادر آباد بیراج پر اونچے جبکہ مرالہ اور خانکی بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ مرالہ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 95 ہزار 856 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خانکی بیراج پر پانی کی آمد ایک لاکھ 65 ہزار 438 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 60 ہزار 108 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق قادر آباد بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 41 ہزار 415 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جہاں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب