دبئی کی شہزادی طلاق کے ایک سال بعد ہی گلوکار کے عشق میں مبتلا، منگنی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
دبئی کی مشہور شہزادی شیخہ مہرہ اور مشہور امریکی مراکش ریپر فرنچ مونٹانا نے ڈیٹنگ کی خبروں کے بعد منگنی کی تصدیق کردی۔
شادی کے ایک سال بعد ہی اپنے شوہر سے طلاق لینے کا اعلان کرنے والی دبئی کے حکمران کی بیٹی شیخہ ماہرہ نے اپنے بوائے فرینڈ مشہور ریپر فرنچ مونٹانا سے منگنی کرلی ہے۔
یہ اعلان پیرس فیشن ویک کے دوران سامنے آیا، جہاں نئے جوڑے کو قریبی دوستوں اور خاندان کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس سے قبل شیخہ ماہرہ کی ڈیتنگ کی افواہیں خبروں کی سرخیوں کا حصہ بنی ہوئی تھیں اور انہیں کئی مرتبہ ریپر فرنچ مونٹانا کیساتھ تصاویر میں دیکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ دبئی کی شہزادی شیخہ مہرہ کاروباری دنیا میں بھی اپنا نام بنا رہی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مہرا M1 کے نام سے پرفیومز کی ایک بزنس چین متعارف کروائی، جس کا پہلا پرفیوم "ڈائیوارس” ہے، جس کی قیمت 272 ڈالر رکھی گئی ہے۔
یہ پرفیوم ان کی اپنے شوہر شیخ مانا بن محمد المکتوم سے 2024 میں طلاق کے بعد لانچ کیا گیا تھا۔ ان دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے جو مئی 2024 میں پیدا ہوئی تاہم اس کے دو ماہ بعد ہی دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔
دوسری جانب امریکی ریپر فرنچ مونٹانا جن کا اصل نام کریم خربوش ہے، اپنے ہِٹ گانوں اور افریقی و مشرق وسطیٰ میں فلاحی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فرنچ مونٹانا
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔