عراق میں خشک سالی کے باعث 2300 سال پرانی قبریں منظر عام پر آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
عراق میں شدید خشک سالی نے جہاں ایک طرف زرعی پیداوار اور توانائی کے شعبے کو متاثر کیا ہے، وہیں اس نے ماہرین آثار قدیمہ کے لیے تاریخ کی کھوج کا ایک نادر موقع بھی فراہم کیا ہے۔ شمالی صوبہ دھوک میں واقع موصل ڈیم کے کنارے، پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم ہونے پر ماہرین نے 2300 سال سے زائد پرانی قبریں دریافت کر لی ہیں۔
عراقی حکام کے مطابق یہ تاریخی دریافت خانکے ریجن میں ہوئی ہے، جو کہ ملک کے سب سے بڑے آبی ذخیرے کے قریب واقع ہے۔ بیکاس بریفکانی، جو دھوک کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر اور اس منصوبے کے سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے اب تک تقریباً 40 قبریں دریافت کی ہیں۔
پانی کی کمی، تاریخ کی نئی کھوج
بیکاس بریفکانی نے بتایا کہ 2023 میں کیے گئے ابتدائی سروے میں یہاں چند قبروں کے آثار ملے تھے، تاہم اس وقت پانی کی بلند سطح کے باعث مکمل کھدائی ممکن نہیں تھی۔ اب جبکہ ڈیم میں پانی خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے، ماہرین کو موقع ملا کہ وہ اس اہم دریافت پر کام کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ قبریں غالباً ہیلینسٹک دور کی ہیں، جو سکندر اعظم کی فتوحات کے بعد مشرق وسطیٰ میں یونانی اثر و رسوخ کے زمانے سے منسوب ہے — یعنی تقریباً تیسری صدی قبل مسیح۔
آثار قدیمہ کے لیے نایاب موقع
بریفکانی کے مطابق، اگرچہ خشک سالی نے ملک کے کئی شعبوں کو متاثر کیا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں کئی قدیم آثار اور کھنڈرات دوبارہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ ماہرین ان قبروں کی تفصیلی کھدائی کر رہے ہیں تاکہ پانی دوبارہ بلند ہونے سے پہلے انہیں دھوک میوزیم منتقل کیا جا سکے، جہاں ان پر مزید تحقیق اور تحفظ ممکن ہو سکے۔
موسمیاتی بحران اور علاقائی چیلنجز
عراق حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ملک 1933 کے بعد سب سے بدترین خشک سالی کی لپیٹ میں ہے۔ اس وقت آبی ذخائر میں پانی صرف 8 فیصد تک باقی رہ گیا ہے۔
عراقی حکومت نے ایران اور ترکی پر بھی تنقید کی ہے، جنہوں نے بالائی علاقوں میں بڑے ڈیم تعمیر کر کے دریا دجلہ اور فرات کے بہاؤ کو محدود کر دیا ہے — یہ وہ دریا ہیں جن پر عراق کی زرخیزی صدیوں سے قائم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
اسلام آباد، گزشتہ مہینے پاکستان میں 3ہزار 161نئی کمپنیاں رجسٹرڈ(companies registerd) ہوئیں جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2لاکھ 97 ہزار 239 تک پہنچ گئی۔ ڈیجیٹلائزیشن کے باعث 99.9 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق صوبائی اور علاقائی لحاظ سے مئی کے دوران سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں پنجاب میں رجسٹر ہوئیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کا سیکٹر سرفہرست رہا، جہاں آئی ٹی میں سب سے زیادہ 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
اس کے بعد ٹریڈنگ میں 503 ، سروسز سیکٹر میں 404 ، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 303 جبکہ سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی۔ مئی میں 17 ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی۔
مزید پڑھیں:بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
چین سرفہرست رہا جہاں کے نواسی شیئر ہولڈرز نے کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی۔ تمام غیر ملکی کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ تیرہ کروڑ چورانوے لاکھ روپے ہے۔