Express News:
2026-06-02@22:47:47 GMT

ڈیم نہیں بناؤگے تو سیلاب توآئیں گے

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

پچھلے کئی سالوں سے عالمی سطح پر یہ کہاجاتا رہاہے کہ آیندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہواکریں گی، یعنی اگلے چند سالوں میں خشک سالی کے سبب یابارشیں کم ہونے کے سبب دنیاکے کئی ممالک صاف پانی کی کمی کاشکار ہوجائیں گے اورہوسکتا ہے پانی نہ ملنے کی وجہ سے یہ ممالک آپس میں لڑپڑیں گے۔

انھیں اپنی زرعی زمینیں خشک ہوتی نظر آنے لگے گی اوروہ قحط کی خوف سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارا پانی روکنے کا جب عندیہ دے ڈالا تھا تو ہم کس طرح سیخ پاہوگئے تھے اورسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی سطح پر شور مچانا شروع کردیاتھا۔ ہمیں خطرہ لاحق ہونے لگاتھا کہ پانی روکے جانے کی صورت میں ہمارا کسان بے روزگار ہوجائے گا اورسارا ملک غذائی اجناس کی کمی کاشکار ہوجائے گا۔ ہمیں اس کی اس دھمکی میں اپنی موت نظر آنے لگی تھی لیکن وہ مرحلہ ابھی آیا نہیں تھا کہ اس خطے میں قدرت کی مہربانیوں کی وجہ سے اس قدر زیادہ بارشیں ہونے لگیں کہ ہمیں سیلابی صورتحال کاسامنا ہونے لگا ۔

ایسے میں بھارت نے اپنا اضافی پانی بھی پاکستان کی طرف دھکیل دیا اورہم ایک بار پھر واویلا مچانے لگے کہ یہ ایک آبی جارحیت ہے۔ہم وہ قوم ہیں جو کسی حال میں خوش نہیں ہوتی۔ بھارت پانی روک دے تو بھی اوروہ پانی چھوڑدے تو بھی۔دنیا میں یہ ہوتا آیا ہے کہ جب بارشیں زیادہ ہوا کرتی ہیں توڈیموں کو بچانے کے لیے اس کے کچھ اسپیل کھولنے پڑجاتے ہیں۔ورنہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں پانی کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے ڈیم کونقصان نہ پہنچ جائے، اگر اسپیل نہ کھولے گئے اورڈیم ٹوٹ جائے تو بہت زیادہ تباہی ہوسکتی ہے۔

اس سال ہم نے پہلے کی طرح اپنے کچھ ڈیموں کے اسپیل اسی خطرے کی وجہ سے کھولے ہیں اوربھارت نے بھی شاید یہی کچھ کیا ہے ۔ مگر ہم نے ہمیشہ کی طرح اپنی نااہلی کی ذمے داری اس بار بھی بھارت کے اسپیل کھولے جانے پر ڈال دی۔دنیا ہماری اس چیخ وپکار پر کچھ نہ بولی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اسپیل کھولنا ہر اس ملک کا استحقاق ہے جس نے یہ ڈیم بنائے ہیں۔ ہم اسے آبی جارحیت کانام دیں یا کچھ اورلیکن ہم اس پانی کو روک نہیں سکتے تھے۔ پانی بند کردینے کی صورت میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر ہم اس کے ساتھ جنگ لڑسکتے تھے یااسکے ڈیموں کوبم سے اُڑا سکتے تھے لیکن یاد رہے کہ اسپیل کھولے جانے پر ہم اس کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ ہمیں خود اپنے طورپر اس سیلابی پانی سے بچاؤ کے انتظامات کرنا چاہیے تھے۔     

 دوبرس قبل جب کچھ ایسی ہی صورتحال کے سبب پنجاب اورسندھ میں سیلاب نے زبردست تباہی مچادی تھی اورلاکھوں گھر تباہ ہوگئے تھے اور دنیا ہمارے شور کوسن کر ہماری مدد کو بھی آپہنچی تھی ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ذاتی کوششوں سے کئی ارب ڈالرز بھی امداد کی شکل میں مل گئے تھے لیکن دنیا ہرسال اس طرح ہماری مدد ہرگز نہیں کرسکتی ہے۔ ڈیموں کی تعمیر کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو اب سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک ایسی صورتحال کاسامنا کرتے رہیں گے ۔ جو بڑے ڈیمز ایوب خان کے دور میں بنائے گئے تھے ہم آج تک انھی پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد جب بھی کسی اوربڑے ڈیم کی تعمیر کی بات کی جاتی ہے سندھ اورخیبر پختون خوا سے اس کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ آوازیں اس قدر سخت اورسنگین ہوتی ہیں کہ ملک کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے لگتا۔ لاشوں پرسے گزر جانے کی باتیں کی جانے لگتی ہیں۔ کالاباغ ڈیم چالیس سال پہلے تجویز کیاگیا تھا اورآج تک بن نہیں پایا۔ کسی جمہوری حکمران تو کیا کسی غیر جمہوری حکمران نے بھی ہمت دکھانے کی کوشش نہیں کی۔

ذرا سوچا جائے کہ اس ملک کو ایک نہیں اب کئی بڑے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے۔ وہ اگر نہ بنے تو ہم ہرسال ایسی ہی تباہی سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ کلائمیٹ چینج کے اثرات ہمارے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ ہم نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا۔ سیلابی آفات سے بچنے کا واحد راستہ پانی کے وافر اور بڑے بڑے ذخائر بنانے میں مضمر ہے۔ہم نے ذخائر بنانے کے بجائے سیلابی پانی کی گذر گاہوں کو اور بھی چھوٹا اورمختصر کردیا ہے ۔

دریاؤں کے راستوں پرمکانات اوربستیاں آباد کرلی ہیں۔ ہم سمجھ بیٹھے تھے یہ دریا اب خشک ہوچکے ہیں اورشاید پھر سے کبھی بھی نہیں بھریں گے۔دریائے چناب ، ستلج، جہلم اور دریائے راوی کے ساتھ بھی ہم نے یہی سلوک کیا۔ اِن دریاؤں کو ہم نے اس قدر چھوٹا کردیا اوروہاں سیوریج کاپانی بھی داخل کردیا کہ اب ذرا سے اضافی پانی سے وہ کناروں سے باہرنکل آئے۔ راوی کو خشک ہوتادیکھ کروہاں ایک نئی بستی بلکہ ایک نیاشہرآباد کرنے کی ٹھان لی۔RUDA کے نام سے ایک ایسی اتھارٹی بناڈالی کہ لاکھوں ایکڑ پرمشتمل جس میں زرعی زمینیں بھی شامل تھیں سوسائٹی بناناشروع کردی۔ ہمارے ایک سابق وزیراعظم خود اس منصوبے کو لے کر اتنے جذباتی ہوگئے کہ اس کی پبلسٹی بھی میڈیا پرآکرکرنے لگے۔

وہ اسے اسلام آباد سے بھی اچھا ایک نیاشہر کا نام دے رہے تھے اورسارا کریڈٹ بھی اپنے نام کرنے لگے تھے۔ اُس منصوبے کی تشہیر اس پیمانے پرکی جانے لگی کہ غریب اورمعصوم عوام بھی اس کے دھوکے اورشکنجے میں آکر اپنی جمع پونجی اس میں لگانے لگے ۔ آج وہ سارا منصوبہ دریابرد ہوچکا ہے اورمنصوبے کے کرتا دھرتا ایک دوسرے کو الزام دینے میں لگے ہوئے ہیں۔یہ سیلابی پانی کچھ دنوں میں بستیاں اجاڑکر سمندر میں جاگرے گا اورہم اسے محفوظ بناکر اپنی زراعت کی استعمال سے بھی محروم رہ جائیں گے۔

ہم ویسے سارا سال پانی کی کمی کارونا روتے ہیں لیکن جب قدرت اپنی فیاضی دکھاتے ہوئے ہمیں وافر مقدار میں پانی فراہم کرتی ہے توہم اسے اگلے دنوں کے لیے ذخیرہ بھی نہیں کرپاتے ۔ہم نے اپنی زرعی زمینوں کو بھی مکانوں اورسوسائٹیوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرلیا ہے ۔ قدرت نے تو ہمیں بے تحاشہ نعمتوں سے نوازا تھا، مگر ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔

آج یہ سیلابی پانی کو بھی ہم اگر ایک نعمت سمجھ کرذخیرہ کردیتے تو ہم سے بڑا خوش نصیب کوئی اور نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کل قدرت ہماری اس ناشکری پر ہم پریہ مہربانیاں روک دے اورہم بوند بوند کو ترسنے لگیں جب ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے کس قدر کفران نعمت کیاتھا۔ ویسے بھی کلائمیٹ چینجز مستقل نہیں رہتے ۔آج اگر بارشیں ہورہی ہیں تو ہوسکتا ہے کل خشک سالی کا دور بھی آجائے۔ پھر ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔

ہمیں ابھی سے آیندہ آنے والے حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ بڑا دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر جب یہ صاف پانی دریاؤں سے گزر کرسمندر میں جا گرتا ہے۔ہمیں اب سنجیدگی سے اپنے طرز عمل پرغور کرنا چاہیے اورڈیم بنانے کی مخالفت چھوڑکرکسی مستقل حل پرتیار ہونا پڑے گا۔ ایسے ڈیم بنانے ہونگے جن سے ہم سارا سال مستفید ہوتے رہیں اوراپنی زمینوں کو ممکنہ خشک سالی سے بچاتے رہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیلابی پانی کی وجہ سے بھی ہم نے لگے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا