لاہور کے نواحی علاقے چونگ میں واقع ایک پرانا اسکول اب عارضی ریلیف کیمپ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں سینکڑوں سیلاب متاثرہ خواتین، بچوں اور بزرگوں نے پناہ لی ہوئی ہے۔ یہاں کی دیواریں نمی سے بھیگی ہیں، فرش پر کیچڑ پھیلا ہے اور ہوا میں نمی اور بے بسی گھلی ہوئی ہے۔
19 سالہ شمائلہ ریاض، جو اپنے پہلے بچے کے ساتھ سات ماہ کی حاملہ ہیں، چار دنوں سے اسی کیمپ میں مقیم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے آنے والے بچے کے بارے میں خوشی سے سوچنا چاہتی تھی، لیکن اب تو اپنے مستقبل پر ہی یقین نہیں رہا۔
جسمانی تکالیف، ذہنی دباؤ اور سہولیات کا فقدان
کیمپ میں موجود بیشتر خواتین نہ صرف جسمانی تکلیف کا سامنا کر رہی ہیں بلکہ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا ہیں۔ 19 سالہ فاطمہ (فرضی نام)، جو ایک سالہ بیٹی کی ماں اور چار ماہ کی حاملہ ہیں، بتاتی ہیں کہ میرے جسم میں بہت درد ہے، اور مجھے وہ دوائیاں بھی نہیں مل رہیں جو مجھے ضرورت ہیں۔
حفظان صحت کا بحران
کیمپ میں خواتین کو صاف کپڑے، سینیٹری پیڈز اور مناسب بیت الخلا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ 35 سالہ علیمہ بی بی، جن کا چھوٹا بچہ مٹی سے بھرے کپڑے پر سو رہا تھا، نے بتایاکہ   ہم پیڈز لینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے کے لیے صاف باتھ روم نہیں ہے۔ ہم قریبی گھروں میں جا کر مردوں کے باہر جانے کا انتظار کرتے ہیں، پھر جلدی سے باتھ روم استعمال کرتے ہیں۔
حاملہ خواتین اور بیماریوں کا خطرہ
ریلیف کیمپ کے باہر ایک پریشان خاتون اپنی آٹھ ماہ کی حاملہ بہو کے لیے مدد تلاش کر رہی تھیں۔ مقامی این جی او کے میڈیکل کیمپ میں موجود ڈاکٹر فہد عباس کے مطابق  روزانہ 200 سے 300 مریض آتے ہیں، جنہیں پانی سے پھیلنے والی بیماریاں اور جلدی انفیکشن لاحق ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچے نفسیاتی صدمے سے دوچار ہیں۔
خاموشی میں چھپی مایوسی
ایک خاتون، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتاتی ہیں کہ وہ دوا جو میں ماہواری کے درد کے لیے لیتی تھی، اب بہت مہنگی ہو گئی ہے، اور کہیں دستیاب نہیں۔
جمیلہ (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ہم موت سے تو بچ گئے ہیں، لیکن یہاں جو زندگی گزار رہے ہیں، وہ بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کیمپ میں

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار