دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ چند سال پہلے تک جو کام صرف ہاتھوں سے یا انسانوں کے ذریعے ممکن تھے، آج وہی کام مشینیں نہ صرف بہتر بلکہ زیادہ تیز کر رہی ہیں۔

ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ دفتر کے ملازمین دن رات کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ایک جیسے کام دہراتے رہتے ہیں۔ کوئی ایکسل شیٹ میں نمبرز ڈال رہا ہے، کوئی ای میلز کو کھول کر معلومات آگے بھیج رہا ہے اور کوئی ہر دن کی رپورٹ بنا کر اپنے باس کے پاس پہنچا رہا ہے۔ یہ سب کام اہم ضرور ہیں مگر ایک حد کے بعد یہ انسان کےلیے بوریت اور تھکن کا باعث بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک نئی قسم کی مددگار ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جسے روبوٹک پروسیس آٹومیشن یا مختصراً RPA کہا جاتا ہے۔

یہ سننے میں تھوڑا مشکل لگ سکتا ہے مگر اصل میں یہ بہت سادہ چیز ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجیے جیسے دفتر میں ایک ایسا ڈیجیٹل ملازم بیٹھا ہو جو دن رات بغیر تھکے، بغیر آرام کیے اور بغیر کسی شکایت کے وہی کام دہراتا رہے جو آپ روز کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ یہ سب انسان سے کئی گنا تیزی اور صفائی سے کرتا ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ گھوڑا گاڑی میں سفر کرتے تھے، پھر موٹر کار آئی اور سفر تیز ہوگیا۔ بالکل ویسے ہی اب RPA کام کرنے کے پرانے طریقے بدل رہا ہے اور ہمیں نئی رفتار اور سہولت دے رہا ہے۔

ذرا سوچیے آپ نے دفتر میں صبح سے شام تک جو وقت گزارا، اس میں آدھا وقت صرف ایسے کاموں میں لگ گیا جو آپ کو پہلے بھی کرنے پڑے تھے اور کل بھی کرنے ہیں۔ جیسے کسٹمر کے ڈیٹا کو سسٹم میں ڈالنا، لین دین کی فائلوں کو اپڈیٹ کرنا، یا کسی کلائنٹ کو ای میل بھیجنا۔ یہ سب کام وہی ہیں جو ایک کمپیوٹر کو ہدایت دے کر خودکار انداز میں کروائے جاسکتے ہیں۔ یہی اصل میں RPA ہے: کمپیوٹر کےلیے ہدایات کا ایک مجموعہ جو اسے انسان جیسا رویہ سکھا دیتا ہے۔

اگرچہ روبوٹک پروسیس آٹومیشن زیادہ تر دفاتر اور اداروں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات ہماری ذاتی زندگی میں بھی بالواسطہ طور پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ اپنے بینک کے موبائل ایپ سے بل ادا کرتے ہیں تو پسِ پردہ RPA بوٹس مختلف سسٹمز میں لاگ اِن ہو کر آپ کی ادائیگی کی تصدیق کرتے ہیں، رسید تیار کرتے ہیں اور ریکارڈ اپڈیٹ کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی ای-کامرس ویب سائٹ سے خریداری کرتے ہیں تو RPA ہی ہے جو اسٹاک چیک کرتا ہے، بلنگ انٹری مکمل کرتا ہے اور ڈیلیوری سروس کو ہدایت بھیجتا ہے۔ حتیٰ کہ اسپتالوں میں اپائنٹمنٹ بکنگ یا انشورنس کی ویریفکیشن جیسے مراحل بھی RPA کے ذریعے تیز اور خودکار ہو چکے ہیں۔

یوں یہ ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی میں کئی کاموں کو خاموشی سے آسان بنا رہی ہے، چاہے ہمیں اس کا براہِ راست احساس نہ ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کسی بڑے ادارے تک محدود نہیں۔ بینک اپنے صارفین کی درخواستیں خودکار طریقے سے چلا رہے ہیں، اسپتال مریضوں کے ریکارڈ کمپیوٹر میں ڈالنے کے لیے RPA استعمال کر رہے ہیں، آن لائن اسٹورز ہر خریداری کے بعد خود بخود ای میل اور انوائس بھیج دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ چھوٹے کاروبار بھی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسے روزانہ کی رپورٹ بنوانا یا اسٹاک کا حساب کتاب رکھوانا۔

بعض لوگ یہ سوچ کر پریشان ہوتے ہیں کہ اگر روبوٹ یہ سب کرنے لگیں تو انسانوں کے پاس کرنے کو کیا بچے گا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ RPA صرف وہی کام سنبھالتا ہے جو دہرائے جانے والے اور تھکا دینے والے ہوتے ہیں۔ انسانوں کو زیادہ وقت اور ذہنی توانائی ملتی ہے کہ وہ تخلیقی اور مشکل فیصلوں پر توجہ دے سکیں۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے واشنگ مشین نے کپڑے دھونے کے عمل کو خودکار کردیا۔ کیا اس سے انسان کے کرنے کو کچھ کم ہوا؟ نہیں، بلکہ لوگوں نے وہ وقت دوسرے اہم کاموں میں استعمال کرنا شروع کردیا۔

دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور RPA جیسے ٹولز اس سفر کو تیز کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ صرف دہرائے جانے والے کام نہیں کریں گے بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ مل کر خود سیکھیں گے اور حالات کے مطابق فیصلے بھی کریں گے۔ جس طرح انٹرنیٹ کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہے، ویسے ہی کچھ سال بعد ادارے RPA کے بغیر شاید اپنے کام مؤثر طریقے سے نہ چلا سکیں۔

ہم سب کے لیے اس کہانی میں ایک سبق چھپا ہے۔ اگر آپ دفتر میں کام کرتے ہیں تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ بہت جلد ایسے ڈیجیٹل مددگار آپ کے ساتھ موجود ہوں گے جو آپ کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ اگر آپ کاروباری ہیں تو یہ آپ کے اخراجات کم اور منافع زیادہ کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ طالب علم ہیں تو یہ سمجھنا اہم ہے کہ مستقبل میں RPA کی مہارت رکھنے والے افراد کی بڑی مانگ ہو گی۔

یوں کہیے کہ روبوٹک پروسیس آٹومیشن ہماری زندگی میں ایک خاموش شراکت دار ہے۔ یہ پس منظر میں رہ کر ہمارے لیے وہ سب کام کرتا ہے جو ہمیں تھکا دینے والے لگتے ہیں، تاکہ ہم زیادہ اہم اور بڑے کاموں پر توجہ دے سکیں۔ آنے والا دور انہی کا ہے جو اس تبدیلی کو سمجھ کر اپنا راستہ بنائیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں میں ایک کرتا ہے اگر آپ ہیں تو رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید