کراچی (شوبز ڈیسک) پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف فنکار سائرہ یوسف اور عدیل حسین ایک بار پھر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ دونوں کو شائقین نے پہلی بار 2011 میں نشر ہونے والے کامیاب ڈرامے *میرا نصیب* میں دیکھا تھا، جس میں ان کی آن اسکرین جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کے بعد دونوں کے حوالے سے ایک خوبصورت جوڑی کے تاثر نے جنم لیا، جس پر وقت گزرنے کے ساتھ عوامی دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔

اداکاری کے میدان میں کامیابی کے ساتھ ساتھ دونوں فنکاروں کی دوستی بھی مضبوط ہوئی۔ مختلف تقریبات میں انہیں ایک ساتھ دیکھا گیا جن میں سائرہ یوسف کے برانڈ کی لانچ اور قریبی دوستوں کی شادی کی تقاریب شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تعلق اکثر خبروں کی زینت بنتا رہا ہے۔

حالیہ دنوں عدیل حسین کی ایک انسٹاگرام پوسٹ نے مداحوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اداکار نے اپنی بھانجی اور سائرہ یوسف کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی، جس میں دونوں خوشگوار موڈ میں مسکراتے نظر آ رہے ہیں۔ عدیل حسین نے تصویر کے ساتھ ایک معنی خیز کیپشن تحریر کیا: *“Lucky that I call you my life”*۔ اگرچہ اس جملے میں کسی کا نام نہیں لیا گیا، مگر مداحوں نے فوری طور پر قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ یہ الفاظ سائرہ یوسف کے لیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس تصویر پر بڑی تعداد میں ردعمل سامنے آیا۔ معروف سابق اداکارہ سدرا بتول نے کمنٹ کیا: “اگر یہ خبر درست ہے تو یہ دونوں کے لیے خوشی کی بات ہے۔” ایک مداح نے لکھا: “ہمیشہ سے ان دونوں کی جوڑی پسند رہی ہے، اگر یہ رشتہ شادی میں بدلتا ہے تو بڑی خوشخبری ہوگی۔”

کچھ صارفین نے مزید تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار میرا نصیب حقیقت میں بدلنے جا رہا ہے، جبکہ کچھ نے اس رائے کا اظہار کیا کہ عدیل حسین کا کیپشن دراصل ان کی بھانجی کے لیے تھا اور سائرہ یوسف محض ایک دوست کی حیثیت سے تصویر میں موجود ہیں۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ چند صارفین کا خیال ہے کہ یہ تصویر کسی نئے کمرشل کی شوٹنگ کے دوران لی گئی، کیونکہ اس سے قبل بھی دونوں ایک برانڈ کے اشتہار میں ایک ساتھ نظر آ چکے ہیں۔

اگرچہ سائرہ یوسف اور عدیل حسین کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، لیکن مداح بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ دوستی واقعی ایک نئے رشتے میں ڈھلنے جا رہی ہے یا محض قیاس آرائیاں ہی رہیں گی۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سائرہ یوسف عدیل حسین کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان