جڑواں شہروں میں مسلسل بارش کے بعد نالالئی میں طغیانی کے بعد آبادی کو انخلا کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ایکسیریس نیوز کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں مسلسل بارشوں کے بعد نالہ لئی کی سطح میں 19 فٹ تک اضافہ ہوگیا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے آبادی کو فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے الرٹ جاری کردیا۔

انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف میں مقیم رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی اور تعاون کی ہدایت کردی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جڑواں شہروں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے اور ایچ ایٹ کے مقام پر 98 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گولڑہ کے مقام پر76 ملی میٹر اور سیدپور میں 45، بوکرا میں 52 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

راولپنڈی میں نیو کٹاریاں کے مقام پر 63 ملی میٹر، پیرودھائی کے مقام پر 42، شمس آباد کے مقام پر 28 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

انتظامیہ کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی کی سطح 15 اعشاریہ 7 فٹ تک پہنچ گئی جبکہ پانی کا لیول کٹاریاں کے مقام پر 19 فٹ اور گوال منڈی کے مقام پر 14 فٹ سے اوپر چلا گیاْ

واسا نے رین ایمرجنسی لاگو رکھتے ہوئے ٹیموں کو نشیبی مقامات پر بھیج دیا جبکہ ایم ڈی کا کہنا ہے کہ 
بارش کو پوری طرح مانیٹر کررہے ہیں تمام ضروری انتظامات کرلیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مقام پر نالہ لئی ملی میٹر کے بعد

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا