غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے خلیجی جہازوں کا بیڑا روانہ، ‘آزادی فلوٹیلا’ میں شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش میں عالمی ’فریڈم فلوٹیلا‘ میں شامل ہونے کے لیے خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ایک جہاز کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ یہ جہاز جمعرات کو تیونس سے روانہ ہوگا۔
خبررساں ادارے دی نیو عرب کے عربی ایڈیشن العربی الجدید سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کارکن نے بتایا کہ جہاز میں خلیجی ممالک کے کارکنان، انسانی حقوق کے مدافعین اور ممتاز شخصیات شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی وجوہات کے باعث شرکا کی فہرست روانگی سے کچھ دیر قبل جاری کی جائے گی تاکہ تیونس میں ان کی محفوظ آمد اور تیاری یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت، نیتن یاہو کی کابینہ کا غزہ کو قبضے میں لینے پر غور
یہ خلیجی جہاز عالمی ’فریڈم فلوٹیلا‘ کا حصہ ہے، جو اتوار کو بارسلونا سے روانہ ہوا۔ منتظمین کے مطابق یہ ناکہ بندی کو توڑنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔ فلوٹیلا میں درجنوں جہاز شامل ہیں جو طبی ساز و سامان، خوراک اور 44 سے زائد ممالک کے کارکنان لے کر غزہ کی جانب روانہ ہوں گے۔
برازیلی کارکن تھیاگو ایویلا نے کہا کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا یکجہتی مشن ہوگا اور شرکا و جہازوں کی تعداد پچھلی تمام کوششوں سے زیادہ ہوگی۔ سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، جو فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن ہیں، نے کہا کہ یہ مہم صرف امداد پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری سے کارروائی کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا،’جہاز غزہ پہنچ کر امداد پہنچائیں گے، انسانی راہداری کھولنے کا اعلان کریں گے اور مزید امداد لے کر آئیں گے، تاکہ اس غیر قانونی اور غیر انسانی ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔‘
شرکا میں یورپی قانون ساز اور عوامی شخصیات، جیسے سابق بارسلونا کی میئر ادا کولاو بھی شامل ہیں۔ اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہا کہ حکومت فلوٹیلا میں موجود اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام سفارتی اور قونصلر وسائل استعمال کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملے، اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا
گلف سالیڈیریٹی شپ کے میڈیا دفتر نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں عوامی حمایت اور عطیات پر زور دیا، اور کہا کہ اس سفر کا مقصد ’محصور فلسطینی عوام کی حالت زار کو اجاگر کرنا اور پرامن انسانی پیغام کے ذریعے عالمی خاموشی توڑنا ہے۔‘ ایک بحرینی کارکن نے کہا کہ یہ اقدام ’صرف بحری حرکت نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی پیغام ہے جو خلیج اور عرب عوام کی ناانصافی کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت کا اظہار کرتا ہے۔‘
یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب 9 جون کو مدلین نامی جہاز کو اسرائیلی فوج نے غزہ کے ساحل سے 185 کلومیٹر دور روک دیا تھا۔ اس جہاز میں فرانس، جرمنی، برازیل، ترکی، سویڈن، اسپین اور نیدرلینڈز کے 12 کارکن شامل تھے۔ بعد میں کارکنوں نے زمینی راستے سے رفح تک پہنچنے کی کوشش کی جو ناکام رہی، جس کے بعد انسانی حقوق، انصاف اور عدم تشدد کے لیے پرعزم کارکنوں کا ایک وسیع آزاد اتحاد قائم کیا گیا۔
منتظمین کے مطابق ہر خلیجی ریاست سے کم از کم دو کارکنان، صحافی، حقوق کے مدافع اور ایک ڈاکٹر سمیت جہاز کے عملے کا حصہ ہوں گے۔ بحرین، کویت، عمان اور قطر کی جانب سے شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے کارکن شامل نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امداد کے متلاشی 38 فلسطینی شہید، جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
تمام خلیجی ممالک نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے اور خوراک و طبی امداد بھیجی ہے، تاہم متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اسرائیلی سفارت خانے کھلے ہیں۔ بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے گذشتہ ہفتے منامہ میں اسرائیل کے نئے سفیر شموئیل ریول کے اسناد وصول کیے۔ یاد رہے کہ بحرین اور یو اے ای نے 2020 میں ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امداد بارسلونا بحری بیڑہ تیونس خلیجی جہاز غزہ فریڈم فلوٹیلا فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بارسلونا بحری بیڑہ تیونس خلیجی جہاز فریڈم فلوٹیلا فلسطین ناکہ بندی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔