وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا ہے کہ 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی سندھ میں داخل ہوگا، ہماری پہلی ترجیح انسانی جانوں کو بچانا اور اس کے بعد مال مویشی کو بچانا ہے۔

کراچی میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ نیوسیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی  کی جانب سے بتایا گیا کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کا ہر محکمہ، آبپاشی، زراعت، صحت، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ متحرک ہو کر کام کر رہے ہیں۔ میں، صوبائی وزرا اور چیف سیکرٹری نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ نیوسیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس pic.

twitter.com/mmvl4kqHc6

— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) September 1, 2025

انہوں نے کہا کہ ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آٹھ سے گیارہ لاکھ کیوسک پانی سندھ میں داخل ہوگا۔ ہماری پہلی ترجیح انسانی جانوں کو بچانا اور اس کے بعد مال مویشی کو بچانا ہے۔
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاه کی سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس pic.twitter.com/CYD7yW7VyX

— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) September 1, 2025

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے، ہم نے پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی سندھ میں داخل ہوگا، ہماری پہلی ترجیح انسانی جانوں کو بچانا اور اس کے بعد مال مویشی کو بچانا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے نیو سیکریٹریٹ کے سیکنڈ فلور پر قائم فلڈ کنٹرول روم کا معائنہ کیا اور ڈجیٹلی پانی کی پوزیشن دیکھی اور جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹرمو کی مقام پر 550965 یعنی شدید سیلاب میں ہے،  ٹرمو سے گڈو تک پانی پہنچنے میں دو دن لگیں گے، بلوکی پر اس وقت 16290 کیوسک پانی موجود ہے جو بھی ویری ہائے فلڈ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ کو تمام انتظامیہ کو مزید الرٹ رہنے کی ہدایت  کی۔

 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی نیو سیکریٹریٹ آمد

سید مراد علی شاہ نیو سیکریٹریٹ کے سیکنڈ فلور پر قائم فلڈ کنٹرول روم کا معائنہ کیا

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈجیٹلی پانی کی پوزیشن دیکھی اور جائزہ لیا

اس وقت ٹرمو کی مقام پر 550965 یعنی شدید سیلاب میں ہے : وزیراعلیٰ… pic.twitter.com/96OD4AvJLI

— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) September 1, 2025

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انسانی جانوں کو بچانا سے 11 لاکھ کیوسک پانی سندھ سید مراد علی سید مراد علی شاہ ڈی ایم اے پہلی ترجیح نے کہا کہ اس کے بعد کا کہنا پانی کی

پڑھیں:

سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ

(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
 
 

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل