اپنی ہو یا پرائی مٹی چھوڑنا مشکل: دہائیوں بعد پاکستان بدری پر افغان باشندے روپڑے، میزبان بھی دل گرفتہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
سنہ 1990 کی دہائی میں افغانستان سے جان بچا کر آنے والے سید شاہ نے پاکستان کے شمال میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں سکونت اختیار کی اور پیٹ پالنے کے لیے مقامی بازار کے ایک کونے میں موچی کا کام شروع کیا اور بہت کم وقت میں گاؤں میں احتراماً ’خلفہ‘ کے نام سے مشہور ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: پی او آر کارڈ ہولڈر افغان شہریوں کے انخلا میں صرف 26 دن باقی، یکم ستمبر کی حتمی ڈیڈلائن
سید شاہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کے قصبے بونی میں مقیم تھے اور جلد ہی مقبول ہو گئے۔ تقریباً 35 سال سے زائد عرصہ بونی میں رہنے کے بعد خلفہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیشہ کے لیے پاکستان کو الوداع کہنا پڑا اور وہ اپنی آبائی علاقے بدخشان، افغانستان روانہ ہو گئے۔
افغان باشندوں کے دکھ نے سب کو رلا دیاکئی دہائیوں سے رہائش پذیر افغان باشندوں نے واپسی شروع کر دی ہے اور پاکستان کے دور دراز گاؤں ان کو عزت و احترام کے ساتھ الوداع کر رہے ہیں۔ اپر اور لوئر چترال سے کئی خاندان واپس جا چکے ہیں جبکہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
بونی سے روانگی سے قبل سید شاہ عرف خلفہ نے کہا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہاں سے واپس اپنے وطن جا رہے ہیں۔ انہ وں نے کہا کہ وہ بونی کو اپنا گھر سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کی پوری زندگی یہیں گزری ہے اور اب پتا نہیں وہاں واپس جا کر وہ کیا کریں گے۔
مزید پڑھیے: برطانیہ میں افغان شہریوں کا ڈیٹا لیک، 3 ہزار 700 افراد متاثر
سید شاہ عرف خلفہ واپسی پر بات کرتے ہوئے روپڑے اور سب کو غمگین کر دیا۔ اس موقعے پر بونی کے سابق ممبر کونسل سلامت خان نے کہا کہ افغان بھائیوں کی واپسی پر پورا گاؤں غمگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ اللہ وہاں امن قائم کرے اور ہمارے افغان بھائی اپنے آبائی علاقے میں پرسکون زندگی گزاریں۔
70 سالہ سید شاہ عرف خلفہ کہتے ہیں کہ اب شاید وہ چاہیں بھی تو واپس نہیں آ سکیں گے اور ہمیشہ کے لیے پاکستان کو الوداع کہہ رہے ہیں۔
بونی میں بیکری متعارف کرانے والے کی بھی واپسیبونی اپر چترال میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے سے رہائش پذیر کئی افغان خاندانوں نے حکومتی ڈیڈ لائن ختم ہونے اور کریک ڈاؤن سے پہلے رضاکارانہ واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کے لیے بونی کے عمائدین کی جانب سے الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں افغان باشندوں کے علاوہ بونی کے عمائدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس تقریب میں نورالدین بھی شریک تھے جو ان کے مطابق سنہ 1982 میں پاکستان جبکہ سنہ 1991 میں بونی آئے اور یہاں اپنی بیکری کا کاروبار شروع کیا۔ نورالدین اور ان کے خاندان کی 2 بیکریاں، ایک گوشت کی دکان اور دیگر کاروبار تھے جو اب وہ ختم کرکے افغانستان جا رہے ہیں۔
نورالدین نے بتایا کہ انہوں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ یہاں سے واپس جائیں گے لیکن وہ دن آ ہی گیا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ انہیں کچھ اور وقت دیا جانا چاہیے تھا۔ نورالدین نے کہا کہ بونی میں وہ مقامی فرد کی طرح زندگی گزارتے ہیں، ہر ایک کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں اور گاؤں کے لوگ بھی ان کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکثر شادی و غمی بونی میں ہی گزری دیکھی اور ہمارے خاندان کے کئی افراد کو اسی مٹی میں سپرد خاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی جاری،افغان شہری پاکستانیوں کے احسان مند
انہوں نے مقامی افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان نے افغان بھائیوں کو کھلے دل سے قبول کیا، جگہ دی، ساتھ دیا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ ’آج ہم جو کچھ ہیں صرف پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ آپ لوگوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا‘۔
’ویزا کہاں ملے گا جو کبھی واپس آسکیں‘خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے افغان مہاجرین کی واپسی پر مقامی آبادیوں میں سوگ کا سا سماں ہے اور پورے گاؤں والے جمع ہو کر بھاری دل سے انہیں ہمیشہ کے لیے الوداع کر رہے ہیں۔ واپس جانے والے مہاجرین کے مطابق ان کی دوبارہ واپسی شاید اس لیے ممکن نہیں کیونکہ وہ ویزا نہیں لے سکیں گے۔
واپس جانے والے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے تشویشافغان باشندے واپسی تو کر رہے ہیں لیکن ان میں بے چینی اور مایوسی نظر آ رہی ہے۔ واپس جانے والے ناصر خان نے بتایا کہ ان کی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں جو پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن واپس جا کر ان کی تعلیم کا کیا ہوگا، وہ نہیں جانتے۔
’واپس جاکر کریں گے بھی کیا‘انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پولیس کارروائی اور گرفتاری کے ڈر سے وہ خاندان سمیت واپس جانے پر مجبور ہوئے لیکن اب وہاں کیا کریں گے اور کس طرح گھر والوں کا پیٹ پالیں گے، یہ وہ نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں صرف اتنا پتا ہے کہ کنڑ میں ہمارا گھر تھا، اب وہاں کیا صورت حال ہے کوئی اندازہ نہیں‘۔
بدمزگی کے خوف نے رخت سفر بندھوادیاناصر خان بتاتے ہیں کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ کچھ وقت کابل میں رہ کر روزگار تلاش کریں لیکن آگے کیا ہوگا اللہ بہتر جانتا ہے۔ صرف ناصر خان ہی نہیں بلکہ زیادہ تر واپس جانے والے افغان باشندوں کی یہی کہانی ہے: پریشانی، بے چینی، ڈر اور نہ چاہتے ہوئے بھی واپسی کا رخت سفر باندھنا۔
ڈیڈ لائن ختم، واپسی کا عمل تیزپاکستان کی جانب سے ملک میں مقیم افغان باشندوں اور افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد واپسی میں تیزی آئی ہے۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں رضاکارانہ واپسی میں تیزی آئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 5 اپریل سے اب تک 5 لاکھ 99 ہزار سے زائد افراد وطن واپس بھیجے جاچکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے مہاجرین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 31 دسمبر کے بعد افغان شہری اسلام آباد میں نہیں رہ سکیں گے، وزیر داخلہ نے ڈیڈلائن دیدی
رپورٹ کے مطابق صرف 31 اگست کو 7 ہزار 677 رجسٹرڈ (POR) مہاجرین، 159 ACC ہولڈرز اور ایک ہزار 213 غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے واپس اپنے ملک گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ واپسی طورخم بارڈر کے راستے ہوئی جہاں سے 31 اگست کے روز 7,419 رجسٹرڈ اور 894 غیر قانونی طور پر مقیم افراد واپس گئے۔ جنوبی وزیرستان کے انگور اڈا بارڈر سے بھی 258 رجسٹرڈ، 64 ACC ہولڈرز اور 319 غیر قانونی افغان واپس گئے۔
دیگر صوبوں سے خیبرپختونخوا منتقلیرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیگر صوبوں سے بھی افغان باشندوں کو خیبر پختونخوا لایا گیا تاکہ انہیں طورخم بارڈر کے ذریعے منتقل کیا جا سکے۔ اب تک 9 ہزار 618 رجسٹرڈ اور 19 ہزار 782 غیر قانونی باشندے پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ سے خیبر پختونخوا منتقل کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرانزٹ پوائنٹس کے ذریعے بھی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ پشاور، لنڈی کوتل اور کوہاٹ جیل سے اب تک 7 ہزار 163 افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
کریک ڈاؤن کی تیاریحکومت پاکستان نے ملک میں مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے یکم ستمبر کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہو گئی ہے اور اب ملک میں بغیر ویزا کے رہائش پذیر تمام افغان باشندے غیر قانونی تصور ہوں گے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت نے اب تک افغان باشندوں کو نکالنے کے لیے باقاعدہ کارروائی شروع نہیں کی ہے تاہم اس کے لیے تیاری مکمل کر لی گئی ہے
پشاور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ وفاق کی ہدایت پر صوبائی اداروں نے افغان باشندوں کا ڈیٹا تیار کر لیا گیا ہے اور حکومتی اعلان کے بعد کارروائی شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے اور ابھی تک پشاور سے واپسی کا عمل شروع نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: افغان شہری سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر اسلام آباد میں نہیں رہ سکیں گے، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کی پریس کانفرنس
انہوں نے کہا کہ ’جو واپسی ہو رہی ہے وہ زیادہ تر پنجاب، سندھ اور اسلام آباد سے ہے جبکہ پشاور سے ابھی افغان واپس نہیں جا رہے‘۔
مزید پڑھیے: بارودی سرنگیں:گزشتہ 35 سال میں 44 ہزار افغان شہری ہلاک و زخمی ہوئے،اقوام متحدہ
’کارروائی آخری آپشن ہی ہوگا‘انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کی واپسی کے لیے انتظامات مکمل ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ واپسی رضاکارانہ ہو اور کارروائی کی نوبت نہ آئے۔
افسر کا کہنا تھا کہ کارروائی آخری آپشن ہے اور ان کے خلاف ہوگی جو بالکل واپس جانے کو تیار نہیں ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان باشندوں کا انخلا افغان باشندوں کی واپسی بونی چترال سید شاہ عرف خلفہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان باشندوں کا انخلا افغان باشندوں کی واپسی بونی چترال افغان باشندوں کی واپسی انہوں نے کہا کہ واپس جانے والے خیبر پختونخوا افغان باشندے ہمیشہ کے لیے نے بتایا کہ رہائش پذیر مہاجرین کی افغان شہری واپسی کا ڈیڈ لائن کے مطابق رہے ہیں واپس جا سکیں گے ہے اور کر رہے کے بعد
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔