سپر فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں 16لاکھ افراد متاثر ہوں گے، میئر سکھر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
سکھر:
ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا ہے کہ ماہرین کے مطابق اگر سپر فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں 16 لاکھ افراد، 379 دیہات، 5 لاکھ مویشی اور ڈھائی لاکھ ایکڑ فصلیں متاثر ہوسکتی ہیں، جن کے لیے 948 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔
دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے میئر سکھر نے کہا کہ دریائے سندھ میں آئندہ دنوں تقریباً 8 لاکھ کیوسک کے ریلے کی توقع ہے جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے زائد کے امکان کے پیش نظر سکھر ڈویژن میں ہنگامی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج کی گنجائش 9.
انہوں نے کہا مثبت پہلو یہ ہے کہ پانی وقفوں سے آئے گا جس سے صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے گا۔ پیشگی تیاری ہماری خوش قسمتی ہے، حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور ہم کسی بھی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
میئر سکھر نے کہا کہ ساتھ ہی دیگر صوبوں کے متاثرین کیلئے دعا گو ہیں اور سندھ حکومت پریشانی کی اس گھڑی میں انکے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈویژن میں 155 ریلیف کیمپس، 24 میڈیکل اور 27 لائیو اسٹاک کیمپس فعال ہیں جہاں جی پی ایس لوکیشنز، ڈاکٹرز، ادویات، خیمے، خوراک اور مویشیوں کے لیے علیحدہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ متاثرین کے انخلاء کے لیے ایویکیویشن پلان کے تحت بوٹس، پوائنٹس اور گاڑیاں مختص ہیں جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور مشینری الرٹ رکھی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں PPHI، PDMA اور Rescue-1122 کی موبائل یونٹس تعینات ہیں، ویکسین، اینٹی وِننم اور ایمرجنسی اسٹاک دستیاب ہے، اسپتالوں اور یونٹس کے ذریعے فوری علاج و ریفرل کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
مویشیوں کے تحفظ کے لیے ویٹرنری کیمپس اور ویکسی نیشن یونٹس قائم ہیں۔ ضلعی اور PDMA اسٹاک میں ٹینٹس، مچھر دانیاں، سلیپنگ میٹس، ہائیجین کٹس، فرسٹ ایڈ، سولر لائٹس اور دیگر ضروری اشیاء موجود ہیں جبکہ صوبائی سطح پر اضافی سپلائی کی ڈیمانڈ بھی دی گئی ہے۔
ضلعی ایمرجنسی آپریشن سنٹر (DEOC) اور ڈویژنل کنٹرول رومز 24/7 فعال ہیں اور تمام آپریشنز میں انتظامیہ، پولیس، رینجرز، فوج/نیوی (جہاں ضرورت ہو)، Rescue-1122، PDMA اور این جی اوز کے ساتھ قریبی کوآرڈینیشن جاری ہے۔
میئر سکھر نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی کنٹرول روم یا DEOC سے رابطہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاکھ کیوسک میئر سکھر نے کہا کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔