دنیا میں پہلی بار برڈ فلو کے خطرے کے پیش نظر نایاب جنگلی جانوروں کی ویکسینیشن کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
نیوزی لینڈ میں نایاب پرندوں کو خطرناک برڈ فلو سے بچانے کے لیے دنیا کا پہلا ویکسینیشن پروگرام شروع کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ بہار کے موسمی ہجرتی پرندوں کے ساتھ یہ وائرس ملک میں داخل ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں خصوصاً ان پرندوں کو شدید خطرات لاحق ہیں جن کی تعداد سو سے بھی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سرویکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم 15 ستمبر سے شروع کرنے کا اعلان
گزشتہ 2 سال سے عالمی سطح پر ایچ 5 این ون برڈ فلو نے لاکھوں پرندوں کو ہلاک کیا ہے اور اب یہ وائرس انٹارکٹیکا تک پھیل چکا ہے۔ نیوزی لینڈ نے اس خطرے کے پیشِ نظر پانچ نایاب ترین پرندوں کی اقسام پر ویکسینیشن آزمائش کی۔ سائنس دانوں نے ان پرندوں کو ایچ فائیو این تھری پولٹری ویکسین کی 2 خوراکیں دیں اور نتائج میں 4 اقسام میں مضبوط اینٹی باڈی ریسپانس دیکھا گیا جو کم از کم 6 ماہ تک برقرار رہا۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ان پرندوں کے بنیادی افزائشی مراکز اور ان نسلوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو خطرے کے دہانے پر ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جنگلی پرندوں کو بڑے پیمانے پر ٹیکے لگانا مشکل ہے اور اس کے لیے محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔
آسٹریلیا نے بھی خطرے کے پیش نظر 100 ملین آسٹریلوی ڈالر مختص کیے ہیں تاکہ نایاب پرندوں اور جانوروں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس کسی بھی وقت آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ پہنچ سکتا ہے کیونکہ اب یہ ہمارے خطے کے گرد موجود ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ویکسینیشن مکمل حل نہیں مگر یہ نایاب پرندوں کو بچانے کی ایک بڑی امید ہے خاص طور پر اُن نسلوں کے لیے جن کی بقا اب صرف انسانی کوششوں پر منحصر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برڈ فلو نایاب جانور ویکسینیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برڈ فلو نایاب جانور ویکسینیشن پرندوں کو برڈ فلو خطرے کے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔