سعودی عرب اور عراق نے بھارتی انرجی کمپنی کو تیل کی سپلائی بند کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
سعودی عرب اور عراق نے بھارتی انرجی کمپنی نیارا کو خام تیل کی فراہمی معطل کر دی ہے، جس سے بھارت کی توانائی مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے روسی حمایت یافتہ کمپنیوں پر پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ نیارا انرجی کمپنی، روسی کمپنی روزنیفٹ کی شراکت دار ہے، جو بھارت میں ایندھن کی ایک بڑی کھپت کو پورا کرتی ہے۔
تاہم اب دونوں ممالک نے کمپنی کو سپلائی روک دی ہے، جس سے نیارا کو خریداری کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف نیارا کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے، بلکہ ممکنہ طور پر بھارت کی مجموعی توانائی مارکیٹ پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ایسی صورت میں بھارت کو دیگر بین الاقوامی سپلائرز پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا، جس سے قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ابھی تک نہ تو بھارتی حکومت اور نہ ہی نیارا انرجی کمپنی کی جانب سے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔