WE News:
2026-07-24@11:49:19 GMT

کیا عمران خان کو معافی مانگ لینی چاہیے؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT

کیا عمران خان صاحب کو 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگ لینی چاہیے؟ یہ سوال ہتھیلی پر رکھے انگارے جیسا ہی سہی لیکن اس معاشرے، ملک اور خود تحریک انصاف سے خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اسے پوری سنجیدگی سے زیر بحث لایا جائے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا معاملہ یہ ہے کہ معاشرہ آگے بڑھ چکا ہے اور یہ پیچھے رہ گئی ہیں۔ اس باب میں کسی کو شک ہے تووہ  سیلاب کے دوران، وزرائے کرام کے بیانات اور تاویلات پڑھ کر عین الیقین کی منزل کو پہنچ سکتا ہے۔  یہ 90 کی دہائی سے نکل ہی نہیں پا رہے، سیلاب زدگان کے لیے خوراک کے پیکٹوں پر بھی یہ اپنی تصاویر لگواتے ہیں۔

ادھر تحریک انصاف طفلان خود معاملے کے رحم و کرم پر ہے۔ انتخابی سیاست سے نا آشنا لوگوں کو قیادت کا منصب سونپ دیا گیا ہے اور وہ سیاست کے ساتھ وہی سلوک فرما رہے ہیں جوکوئی بچہ اپنے پہلے کھلونے کے ساتھ فرماتا ہے۔

 ایک سنجیدہ حزب اختلاف کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ حکومت کو اس وقت نہ کسی متبادل سیاسی قوت کا ڈر ہے اور نہ اس پر کسی بامعنی حزب اختلاف کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اسے واک اوور ملا ہوا ہے۔ اتنا جمود سیاست کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا۔

تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت ہے۔ مقبول ترین بھی لکھ دوں تو غلط نہ ہو۔ لیکن اس کی حالت برف کے اس باٹ جیسی ہے جو دھوپ میں نہیں، آگ پر رکھا ہو۔ یہ لمحہ لمحہ پگھل رہی ہے۔ اس کا نصیب دیکھیے، یہ کی بورڈ واریئرز اور یو ٹیوبرز کے دھندے کا ایندھن  بن کر رہ گئی ہے۔ وہ ریٹنگ اور ڈالروں کے تعاقب میں آگ لگاتے ہیں اور تحریک انصاف کے کارکنان شدت جذبات سے آتش فشاں بن جاتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسی سیاسی جماعت ہو جس نے اپنے کارکنان کو اس بے رحمی سے کمرشل یوٹیوبرز کے رحم و کرم پر چھوڑا ہو۔

غم و غصے کی حالیہ کیفیت میں تحریک انصاف اس معاشرے کی فالٹ لائن بنتی جا رہی ہے۔ اس کا کارکن اپنے خان کے سوا دنیا کی موجودہ ہر شے کو غیر ضروری جھاڑ جھنکار سمجھتا ہے جسے پہلی فرصت میں تلف کر دینا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ صرف یہی ہیں جو پارلیمانی سیاست کے اکلوتے دیانت دار اور اکلوتے مظلوم ہیں۔

 فوج، عدلیہ، سیاست دان اور حتیٰ کہ ریاست وہ سب کے بارے میں گرہ سی لگائے بیٹھا ہے۔ کوئی گرہ لگاتا ہے: خان نہیں تو پاکستان کی پرواہ نہیں۔ کوئی رجز پڑھتا ہے: خان نہیں تو بہتر ہے ہم افغانستان چلے جائیں۔ حتی کہ بھارت سے جنگ کے دوران بھی بعض اکاؤنٹ اپنی ہی ریاست کے خلاف متحرک تھے۔

حکومت  اور اسٹیبلمشنٹ کی مخالفت میں یہ گاہے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ یہ ریاست ہی کو حریف سمجھ لیتے ہیں۔ یہ کیفیت نہ صرف خود ایک المیہ ہے بلکہ مزید المیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ہمیں اس فالٹ لائن بھرنے کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت جو مرضی تاویلات کر لے، حقیقت یہ ہے کہ 9 مئی کا بوجھ سر سے اتارے بغیر بات بننا مشکل ہے۔ 9 مئی کو جو ہوا، سب کے سامنے ہوا اور ایک جہان نے دیکھا۔ یہ سیاسی احتجاج نہیں تھا، یہ ملک میں خانہ جنگی کی دستک تھی۔

بلاشبہ تحریک انصاف کے پاس پوسٹ ٹروتھ کی غیر معمولی قوت ہے۔ یہ چاہے تو اپنے کھنڈر کو تاج محل بنا لے۔ تاہم 9 مئی کی غلطی پر ڈٹ جانے سے کہیں بہتر ہے اس غلطی کو تسلیم کر لیا جائے اور اس پر معذرت کر لی جائے۔

9 مئی کے واقعات پر معافی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ معافی تحریک انصاف نے شہباز شریف، آصف زرداری یا اسٹیبلشمنٹ سے نہیں مانگنی۔ یہ معافی ان شہیدوں سے مانگنی ہے جن کی یادگاروں کی توہین کی گئی، یہ ان شہیدوں کے ورثا سے مانگنی ہے، یہ اپنی افواج سے مانگنی ہے۔ یہ سب کچھ تو سانجھا ہے۔ اس میں کیسی انا؟

اس معافی سے کسی کی عزت کم نہیں ہو گی، وہ بڑھے گی۔ کارکنان کے کندھوں پر سالوں سے پڑا اضافی بوجھ ہٹے گا۔ ان کی نفسیاتی گرہین کھلیں گی اور فالٹ لائن بھرنا شروع ہو جائے گی۔

ہاں اگر تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ غلطیاں تو سب نے کیں اور واجب معافیوں کی فہرست طویل ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنے سیاسی کردار پر معافی مانگنی چاہیے تو بعد میں اس پر بھی بات ہو سکتی ہے۔  اس میں پھر دیکھنا ہو گا کہ کس کس کے ذمے کون کون سی معافی ہے۔ دوسرے کسی کے کندھے پر بیٹھ کر آئے تو تحریک انصاف خود کیسے اقتدار میں آئیَ تھی؟ دوسروں کا دامن صاف صاف نہیں تو تحریک انصاف کی پاکی داماں کون سی قوس قزح بنی پھرتی ہے؟

سیاست بند گلی کی نکڑ پر خود پسندی اور  کا جزیرہ بنانے کا نام نہیں، یہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔ سیاست میں سب ہی کا کردار ایک جیسا ہے۔ کچھ خوبیاں تو کچھ خامیاں۔ نہ دوسرے نرے چور ہیں نہ تحریک انصاف والے اللہ کے ولی۔ اگر دوسروں کو اقتدار شفافیت سے نہیں ملا تو اقتدار آپ کو کون سا شیشے کی طرح شفاف ملا تھا۔ جو دوسروں کے نامہ اعمال کی تیرگی قرار پاتی ہے وہ آپ کی زلف کا حسن نہیں بن سکتی۔

اس سوال کی معنیوت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ  آپ کی جدو جہد کا مقصد کیا ہے؟ آپ آئین کے چاہنے والے ہیں  یا آپ ’ایک پیج‘ کی شب غم کے پروانے ہیں  اور اب اماوس کی راتوں میں آپ کو ’ایک پیج‘ کے وہ موسم یاد آتے ہیں جب جون میں برف پڑتی تھی اور دسمبر گرم ہوتا تھا؟ اہل سیاست سے بات کرنے سے گریز اور اسٹیبلشمنٹ سے معاملہ کرنے کے لیے آج بھی بے تابیاں، یہ آئین کا جھگڑا ہے یا ایک پیج کا غم؟

یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ  مائل ہوں تو آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دے ڈالیں اور آپ کا مزاج برہم ہو تو آپ اس کے نام فرد جرم مرتب کرنا شروع کر دیں۔ اور اس پر بھی آپ بضد ہوں کہ آپ کے دونوں مؤقف اپنے اپنے عہد کی لازوال صداقت تسلیم کر لیے جائیں۔

9 مئی کا تعلق سیاست کی سرگرمی سے نہیں تھا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی،  جو اب ایک گرہ بن چکی۔ اس گرہ کو کھول لینا ہی حکمت ہے۔

6 ستمبر کو یوم دفاع ہے۔  زبان قال سے یہ پتھر اٹھانے میں ضد، انا اور حجاب مانع ہو تو ابتدا زبان حال سے بھی کی جا سکتی ہے۔ جن یادگاروں پر 9 مئی کو جنون کی آگ چھوڑ آئے تھے، وہاں 6 سمتبر کو محبتوں کے تازہ پھول رکھ دیجیے۔  کیا عجب کہ ان کی خوشبو سے ماحول بہتر ہونا شروع ہو جائے۔

تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے، اسے ضائع نہیں ہونا چاہیے اور 9 مئی ایک سنگین غلطی تھی، اس کی  کوئی تاویل نہیں ہوسکتی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ قانون پڑھاتے ہیں، وکیل ہیں۔ نجی ٹی وی پر ٹاک شو کے میزبان بھی ہیں۔ اردو اور انگریزی میں کالم لکھتے ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

9 مئی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پیپلز پارٹی دقیانوسی سیاست عمران خان عمران خان معافی ن لیگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی پیپلز پارٹی دقیانوسی سیاست عمران خان معافی ن لیگ تحریک انصاف نہیں ہو ہے اور کے لیے اور اس

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی