عمران خان کے بھانجوں کی گرفتاری اور مقدمات ختم کرنے کیلیے خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بھانجوں حسان نیازی، شیر شاہ اور شاہ ریز خان کے خلاف درج مقدمات اور سزاؤں کیخلاف قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن آصف محسود نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے سزاؤں کے خلاف اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حسان خان نیازی ،شیرشاہ خان اور شاہریز خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے سزائیں انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہیں۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ تینوں رہنماؤں کے سزائیں فوری طور پو ختم کیا جائے۔
حکومت کی عددی اکثریت کی وجہ سے قرارداد کو ایوان نے منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن اراکین نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انصاف کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔