وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا دورۂ تیانجن ؛ سی پیک 2.0 کے تحت نئے مواقع پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بیجنگ:
ایس سی او اجلاس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے تیانجن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سی پیک 2.0 کے تحت پاکستان–چین تعاون کے نئے مواقع پر بات چیت کی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 پاکستان کی بندرگاہوں، قابلِ تجدید توانائی اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو مضبوط بنانے کے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ہوان شینگ نیو انرجی سولر پلانٹ کا معائنہ بھی کیا اور اسے چوتھی صنعتی انقلاب کی سطح کا خودکار منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی جدید توانائی منصوبوں سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔
احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ زرعی شعبے میں بایو ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے چین کے تعاون کو اہمیت دی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے چینی ٹیکنالوجی اور تجربے سے استفادے کے پلیٹ فارمز بنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل سولر اور گرین انرجی کا ہے، اس سلسلے میں انہوں نے چینی کمپنی کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جدید ریسرچ سینٹرز قائم کر رہا ہے جو مستقبل کی ترقی کی ضمانت ہوں گے۔
دورے کے دوران وفاقی وزیر نے چین کی ایک بڑی جانوروں کی ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا بھی معائنہ کیا جس نے پاکستان میں پلانٹ لگانے کی پیشکش کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں لائیو اسٹاک زرعی معیشت کا مضبوط ستون ہے اور جانوروں کو بیماریوں سے پاک کر کے گوشت کی برآمدات بڑھانا اہم ہدف ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔