پروڈیوسرز کو ’نہ‘ سننا برا لگتا ہے؛ نووارد اداکارہ نے شوبز کی تلخ حقیقت بتادی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
ابھرتی ہوئی اداکارہ ماریہ ملک نے شوبز کی چمک دمک کے پیچھے تاریک چہرے کو بے نقاب کرکے رکھ دیا۔
ڈراما "الزامِ عشق" سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے والی نووارد اداکارہ ماریہ ملک نے اپنے کیریئر اور انڈسٹری کے تلخ تجربات کے بارے میں ایک انٹرویو میں بے باکی سے بات کی۔
ماریہ نے انٹرویو میں بتایا کہ میرے ساتھ کبھی ایسا کچھ غلط نہیں ہوا لیکن میں نے دوسروں کی ہولناک کردینے والی کہانیاں سنی ہیں۔
اداکارہ ماریہ ملک نے مزید کہا کہ شو بز کی چمک دمک کے پیچھے کئی اندھیرے پہلو بھی چھپے ہیں، جنھیں سن کر دکھ ہوتا ہے۔
ماریہ ملک نے بتایا کہ شکر ہے میرے ساتھ کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے۔
اپنے کیریئر کے حوالے سے ماریہ نے کہا کہ نئے آنے والوں کو عموماً صرف سپورٹنگ رولز ہی آفر کیے جاتے ہیں۔ میں بھی ابتدا میں ایسے ہی کردار کرتی رہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ بعد میں کچھ کرداروں کو ٹھکرا دیا کیونکہ لیڈ رول میں نظر آنا چاہتی تھی لیکن پروڈیوسرز کو "نہ" سننا برا لگتا ہے۔
البتہ اداکارہ نے اس بات کو بھی تسلم کیا کہ جب فنکار کو کامیابی ملنے لگتی ہے تو پھر وہی پروڈیوسرز وغیرہ اچھی طرح پیش آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔