دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہیں، ڈبلیو ایچ او
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی ہر 100 اموات میں سے ایک سے زائد کی وجہ خودکشی ہے، جو ایک بڑا عوامی صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف سال 2021 میں تقریباً 7 لاکھ 27 ہزار افراد نے خودکشی کی، جبکہ ہر ایک خودکشی کے مقابلے میں 20 بار کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اموات نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگی ختم کرتی ہیں بلکہ ان کے اہلِ خانہ اور دوست احباب کو بھی شدید صدمات سے دوچار کرتی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق خودکشی دنیا بھر میں نوجوانوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ 15 سے 29 سال کی لڑکیوں میں یہ موت کی دوسری بڑی وجہ اور لڑکوں میں تیسری بڑی وجہ ہے۔
سال 2000 سے 2021 تک دنیا میں خودکشی کی شرح میں 35 فیصد کمی ضرور ہوئی، لیکن ادارے کے مطابق یہ رفتار ناکافی ہے۔ 2015 سے 2030 تک خودکشی کی شرح میں ایک تہائی کمی کا ہدف مقرر تھا، مگر موجودہ پیش رفت کے مطابق صرف 12 فیصد کمی ہی ممکن ہو سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خودکشیاں غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں، لیکن امیر ممالک میں آبادی کے تناسب سے یہ شرح کہیں زیادہ ہے۔ صرف امریکی خطے میں 21 سال کے دوران خودکشی کی شرح 17 فیصد بڑھ گئی۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر شرح میں کمی آئی ہے لیکن ذہنی امراض جیسے ڈپریشن اور تناؤ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا کے اثرات اور کووڈ-19 وبا کے نتائج کو نوجوانوں میں ذہنی دباؤ بڑھنے کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ حکومتیں ذہنی صحت پر توجہ نہیں دے رہیں، کیونکہ دنیا بھر میں صحت کے بجٹ کا صرف 2 فیصد ذہنی صحت کے لیے مختص ہے، اور ڈپریشن کے شکار صرف 9 فیصد افراد کو ہی علاج میسر ہے۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا کہ ذہنی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا آج کے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دنیا بھر میں ڈبلیو ایچ او خودکشی کی کے مطابق
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔