انکاؤنٹر کا خوف، ملزم نے سپریم کورٹ میں گرفتاری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
سپریم کورٹ میں منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت کے دوران ڈرامائی صورتِ حال پیدا ہوگئی جب ملزم فیاض عرف بھولا نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد انکاؤنٹر کے خدشے کے باعث کمرۂ عدالت میں ہی اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کو گرفتاری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں پولیس مقابلہ، سنگین وارداتوں میں ملوث ڈاکو ہلاک
ملزم کے وکیل مظہر اقبال سدھو نے مؤقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کو خطرہ ہے کہ پنجاب میں سی سی ڈی کے ہاتھوں انکاؤنٹر کر دیا جائے گا۔ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں روزانہ اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اس موقع وکیل نے نشاندہی کی کہ ایک شخص کو جیل سے نکال کر اس کا بھی انکاؤنٹر کر دیا گیا تھا”، وکیل نے نشاندہی کی۔
پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اے این ایف ایک ذمہ دار فورس ہے اور کسی بھی غیرقانونی اقدام کا حصہ نہیں بنتی۔
تاہم جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے پاس سے 10 کلو منشیات اور ایک ڈرون بھی برآمد ہوا ہے۔
سماعت کے دوران ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست واپس لے لی۔
یہ بھی پڑھیں:جعلی پولیس مقابلہ: فیصل آباد پولیس کے 3 اہلکاروں کو سزائے موت کا حکم
عدالت نے نہ صرف درخواست مسترد کی بلکہ ملزم کی گرفتاری کو سپریم کورٹ کے آرڈر کا حصہ بھی بنا دیا۔
یاد رہے کہ ملزم کے خلاف اگست 2023 میں لاہور میں دس کلو منشیات سمگلنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انکاؤنٹر سپریم کورٹ منشیات اسمگلنگ کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکاؤنٹر سپریم کورٹ منشیات اسمگلنگ کیس سپریم کورٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔